خطبات محمود (جلد 20) — Page 34
خطبات محمود ۳۴ سال ۱۹۳۹ء کہ جب اجزاء وہی ہیں تو وقت کی کیا ضرورت ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قانونِ قدرت میں ایسی کئی مثالیں رکھ دی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض چیزوں کے لئے وقت کی لمبائی بھی ایک مجد و ہوتی ہے۔اسی لئے میں نے جماعت میں مجلس خدام الاحمدیہ کی بنیا د رکھی ہے۔میری غرض اس مجلس کے قیام سے یہ ہے کہ جو تعلیم ہمارے دلوں میں دفن ہے اُسے ہوا نہ لگ جائے بلکہ وہ اسی طرح نسلاً بعد نسل دلوں میں دفن ہوتی چلی جائے۔آج وہ ہمارے دلوں میں دفن کی ہے تو کل وہ ہماری اولاد کے دلوں میں دفن ہوا اور پرسوں اُن کی اولاد کے دلوں میں۔یہاں تک کہ یہ تعلیم ہم سے وابستہ ہو جائے اور ہمارے دلوں کے ساتھ چمٹ جائے اور ایسی صورت اختیار کر لے جو دُنیا کے لئے مفید اور بابرکت ہو۔اگر ایک یا دو نسلوں تک ہی یہ تعلیم محدود رہی تو کبھی ایسا پختہ رنگ نہ دے گی جس کی اس سے توقع کی جاتی ہے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر مجالس خدام الاحمدیہ کا جو اجتماع ہوا تھا اس میں میں نے خدام الاحمدیہ کو خصوصاً اور باقی جماعت کی کو عموماً اس بات کی طرف توجہ دلائی تھی کہ اس کام میں خدام الاحمدیہ کی مدد کی جائے۔پھر کی جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی میں نے دوستوں کو توجہ دلائی تھی کہ اس جماعت کی مالی امداد کرنا یہ بھی ایک ثواب کا کام ہے۔اور جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہوئی ہے اُن کا فرض ہے کہ وہ تھوڑی بہت جس قدر بھی مدد کر سکتے ہوں ضرور کریں تا کہ خدام الاحمد یہ عمدگی اور سہولت کے ساتھ اپنا کام کر سکیں۔کئی نادان ہیں جو اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ انگریزوں کے فلاں کام تو خوب چلتے کی ہیں مگر ہمارے کام اس طرح نہیں چلتے اور وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ ان کے کام کے تسلسل کے پیچھے با قاعدہ دفتر ہوتے ہیں، باقاعدہ کام کرنے والے ہوتے ہیں، باقاعدہ خط و کتابت ، سفر اور اجتماعات وغیرہ کے لئے روپیہ ہوتا ہے اور جب سب چیزیں انہیں میسر ہوں تو اُن کے کام کیوں نہ چلیں۔مگر ہمارے ہاں نہ سرمایہ ہوتا ہے ، نہ پورے وقت کے ایسے کارکن ہوتے ہیں جو تجربہ کار ہوں اور نہ عام ضروریات کے لئے روپیہ ہوتا ہے اور پھر اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ لوگ متواتر کام نہیں کرتے۔جب نیشنل لیگ قائم ہوئی تو اُس وقت بھی میں نے انہیں یہ نصیحت کی تھی کہ اب تو تم جوش میں یہ خیال کر لو گے کہ ہم سارا کام خود ہی کر لیں گے مگر کاموں کو جب بڑھایا جائے تو ضروری