خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 33

خطبات محمود ۳۳ سال ۱۹۳۹ء پڑتا ہے اور اگر انہیں چھ ماہ بند کر کے نہ رکھا جائے تو کبھی فائدہ نہیں دیتیں۔اسی طرح بعض کی دوائیں سال سال اور بعض دو دو سال کے بعد کھانے کے قابل بنتی ہیں۔وہی اجزا اگر اسی کی وقت باہم ملا کر کھا لوتو ایسا فائدہ نہیں دیں گے لیکن اگر دو سال کے بعد کھاؤ تو تریاق بن جائیں گے۔تو بعض دوائیں اکیلی فائدہ نہیں دیتیں بلکہ وقت بھی اُن کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے اور ایسی ایک دو نہیں بلکہ ہزاروں اشیاء ہیں جن کا وقت خود ایک اہم جزو ہوتا ہے۔کوئی نئی چیز ان کی میں داخل نہیں کی جاتی۔صرف وقت ان کے ساتھ شامل کر لیا جاتا ہے اور وہ کچھ سے کچھ ہو جاتی ہیں اور جب وقت شامل نہیں ہوتا تو وہ مفید نہیں ہوتیں۔یہی حال اللہ تعالیٰ کی تعلیمات کا ہے۔اس کی بعض تعلیمیں بھی تبھی پختہ ہوتی ہیں اور تبھی اِن کا قوام محمد ہ اور اعلیٰ ہوتا ہے جب متواتر کئی نسلیں ان کو اختیار کرتی چلی جائیں۔جب مسلسل کئی نسلیں ان تعلیموں پر عمل کرتی چلی جاتی ہیں تب وہ ایک نئی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور دُنیا کے لئے حیرت انگیز طور پر مفید بن جاتی ہیں۔خصوصاً جو جماعت اور جو نظام جمالی رنگ میں ہو یعنی عیسوی سلسلہ کے اصول کے مطابق وہ ایک لمبے کی عرصہ کے بعد پختہ ہوتا ہے۔بلکہ بعض دفعہ دو دو تین تین سو سال کے بعد اسے پختگی حاصل ہوتی ہے۔گویا اس کی مثال ان اعلیٰ درجہ کی معجونوں یا برشعشا کی قسم کی دواؤں کی سی ہوتی ہے جو ایک ایسے عرصہ کے بعد اپنی خوبی ظاہر کرتی ہیں۔ہمارا سلسلہ بھی عیسوی سلسلہ ہے اور اس کی خوبیاں بھی تبھی ظاہر ہوسکتی ہیں جب ایک لمبے عرصہ تک انتظار کیا جائے۔جس طرح بعض دواؤں کو ایک لمبے عرصہ تک دفن رکھ کر انہیں مفید بننے کا موقع دیا جاتا ہے اور اگر یہ موقع نہ دیا جائے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ہم عمداً اس دوائی کو خراب کرتے ہیں۔اسی طرح ضروری ہوتا ہے کہ جمالی تعلیموں کے نیک نتائج کا بھی لمبے عرصہ تک انتظار کیا جائے۔مگر دواؤں میں سے تو کوئی دوائی زمین میں دفن کی جاتی ہے، کوئی کچ جو میں دفن کی جاتی ہے، کوئی گیہوں میں دفن کی جاتی ہے۔مگر جمالی تعلیم ایک لمبے عرصہ تک اپنے دلوں میں دفن کی جاتی ہے۔جب ایک لمبے عرصہ تک اس تعلیم کو اپنے دلوں میں جگہ دی جائے تو یہ اعلیٰ درجہ کی معجون بن جاتی ہے۔ایسی معجون جو تریاق ہوتی ہے اور جو مُردہ کو بھی زندہ کر دیتی ہے۔پس قانونِ قدرت کا یہ نکتہ ہمیں بھلا نہیں دینا چاہئے۔نادانی کی وجہ سے بعض لوگ سمجھتے ہیں