خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 315

خطبات محمود ۳۱۵ سال ۱۹۳۹ء آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ بلغ ما انزل الیک سے اور کسی کی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے آپ کھڑے ہو گئے دنیا کے بدترین ظلم جو ہو سکتے تھے آپ پر اور آپ کے صحابہ پر توڑے گئے قریب ترین احساسات ماں باپ کے ہوتے ہیں۔ایک صحابی جن کی عمر پندرہ سولہ سال کی تھی کی اکلوتے بیٹے تھے جب ایمان لائے اور ان کی ماں کو پتہ چلا تو وہ روئی بیٹی اور برتن تو ڑ دیئے اور کی ان کے کھانے کے برتن الگ کر دیئے کہ تمہیں کھانا الگ ملا کرے گا اور کہا کہ میں تمہاری شکل سے بیزار ہوں تم نے ہماری ناک کاٹ دی ہے اور پھر بھی جب اثر نہ ہوا تو انہیں کہا کہ گھر نہ آیا کرو اس پر انہوں نے ماں سے کہا گو مجھے آپ سے محبت ہے لیکن حق کے مقابل پر اس کی کوئی حقیقت نہیں پھر کئی سال باہر رہنے کے بعد واپس آئے لیکن ماں نے پھر بھی یہی کہا کہ میں تب گھر آنے دوں گی جب تم اسلام چھوڑ دو گے اس پر پھر وہ چلے گئے اور پھر ماں کو دیکھنا نصیب نہیں ہوا سے لیکن اس زمانہ میں جو ہوتا ہے اس کو دیکھو۔ہماری جماعت میں معمولی کام کو بڑا کام اور معمولی تکلیف کو بڑی تکلیف سمجھنے لگ پڑتے ہیں۔ایک دفعہ قادیان میں کچھ فساد ہوا اور میں نے تحقیق کے لئے ایک دوست کو جو کمہار ہیں ایک بات دریافت کرنے کے لئے بلایا۔اُنہوں نے سمجھا کہ میں گھبرا گیا ہوں اور مجھے تسلی دینے کے لئے کہا کہ یہ واقعہ کیا چیز ہے اس سے بہت بڑھ کر مصیبتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہم پر آئی ہیں۔ایک دفعہ ہم تالاب کی سے مٹی اُٹھا رہے تھے کہ مرزا نظام الدین صاحب آئے اور کہا کہ کون ہماری اجازت کے بغیر مٹی اُٹھا رہا ہے؟ ان کو دیکھ کر سب لوگ بھاگ گئے اور صرف میں ہی اکیلا وہاں رہ گیا۔میں کی نے دُعا کی یا اللہ یہ ایسا ہی وقت ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غار ثور میں آیا تھا۔اس طرح وہ مجھے تسلی دے رہے تھے حالانکہ یہ ان کے نفس کی بزدلی تھی۔میں حیران تھا کہ اس شخص نے کتنے معمولی سے واقعہ کو غار ثور جیسے عظیم الشان واقعہ سے تشبیہ دی ہے۔غرض یہ حالت ہے اس زمانہ کے لوگوں کی کہ چھوٹی چھوٹی ذمہ داری کے کاموں سے گھبرا جاتے ہیں۔ریلوں وغیرہ سے آرام کی وجہ سے بجائے شکریہ میں بڑھنے کے غفلت میں ترقی ہو رہی ہے اور کام میں بڑھنے کی بجائے اس کی مقدار اور اس کا معیار کم ہو رہا ہے اور کھانے پینے کی چیزوں میں زیادتی کے ساتھ غفلت میں بھی زیادتی ہوتی چلی جاتی ہے اور انسان کو فاقہ رہنے کی مشق