خطبات محمود (جلد 20) — Page 303
خطبات محمود ٣٠٣ سال ۱۹۳۹ء پہلے جو تعلیم ہماری جماعت کی طرف سے پیش کی گئی تھی کہیں وہی تو درست نہیں اور کہیں ایسا تو کی نہیں کہ وہ غلطی پر ہوں اور اسلامی نظام کے سمجھنے میں اُنہوں نے ٹھو کر کھائی ہو۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب غیر مبائعین کے دل بھی اس نظام کی خوبی کو تسلیم کرنے لگ گئے ہیں اور اُن پر بھی یہ امر آشکار ہو گیا ہے کہ صحیح نظام وہی ہے جو خلافت کے ماتحت ہو مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جہاں اور لوگ اس طریق کی عمدگی اور خوبی کو تسلیم کرنے لگ گئے ہیں وہاں اپنی جماعت کے بعض افراد اس کی قدر کو نہیں پہچانتے۔اس وقت ہماری جماعت میں بہت سے لوگ ایسے داخل ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ صرف نام کی احمدیت ان کے لئے کافی ہو جانی چاہئے۔ایسے آدمیوں سے خواہ ان کی تعداد کس قدر زیادہ کیوں نہ ہو جماعت کو ہر گز کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا اور میں سمجھتا ہوں جہاں ان لوگوں کے دماغ میں یہ غلط خیال سمایا ہوا ہے کہ وہ محض احمدی کہلا کر احمدیت کی تقویت کا موجب بن سکتے ہیں وہاں جماعت کے کارکنوں کو بھی یہ خیال اپنے کی دل سے نکال دینا چاہئے کہ ان لوگوں کو جماعت سے علیحدہ کر دینا جماعت کے لئے نقصان کا موجب ہوگا یقیناً ان لوگوں کا جماعت سے نکالنا جماعت کے لئے نقصان دہ نہیں بلکہ مفید ہے اور جماعت اسی وقت ترقی کر سکتی ہے جب اس قسم کے لوگ اس کے اندر موجود نہ ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک ایک فعال جماعت نہ ہو اس وقت تک دُنیا میں کوئی تغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔اگر ایک طرف ایک ہزار کام کرنے والے لوگ ہوں اور دوسری طرف ایک لاکھ ایسے لوگ موجود ہوں جو سکتے اور ناکارہ ہوں تو یقیناً ان ایک لاکھ نکموں سے ایک ہزار کام کرنے والا زیادہ مفید ہوگا بلکہ ایک طرف اگر ایک ہزار ہوں اور دوسری طرف ننانوے ہزار سکتے اور ایک ہزار کام کرنے والے ہوں یا دو ہزار ایک طرف ہوں اور دوسری طرف بھی دو ہزار ہوں مگر ان کے ساتھ پانچ دس ہزار سکتے لوگ بھی ہوں تو باوجود اس کے کہ کثرت تعداد دوسری طرف ہوگی جیتیں گے وہی جو گو کم ہوں گے مگر سب کے سب کام کرنے والے ہوں گے کیونکہ گو وہ تھوڑے ہوں گے مگر ان کے گلے میں کوئی ایسے پتھر نہیں ہوں گے جو اُن کو بڑھنے سے روک لیں مگر کی دوسری طرف گو کام کرنے والوں کی تعداد اتنی ہی ہو گی مگر چونکہ ان کے گلے میں بعض ایسے پتھر بھی ہوں گے جو انہیں نیچے کی طرف جھکا رہے ہوں گے اس لئے با وجو د زیادہ ہونے کے