خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 298

خطبات محمود ۲۹۸ سال ۱۹۳۹ ء وہاں دس پندرہ لاکھ روسی فوج کا اجتماع ہو گیا۔ اس کے بعد یہ خبریں آنی شروع ہوئیں کہ روسی فوجیں جرمنی کی حدود میں داخل ہو گئی ہیں اور انہوں نے جرمن فوجوں کو بُری طرح پسپا کرنا شروع کر دیا ہے۔ چنانچہ اخبارات نے بھی اپنے عنوان میں تبدیلی کر دی اور اُنہوں نے بجائے یہ لکھنے کے کہ Russian Steam Roller Coming یہ لکھنا شروع کر دیا کہ لینی روس کا سڑک کوٹنے والا انجن آگے بڑھ رہا Russian Steam Roller Advancing ہے۔ چنانچہ روزانہ اس قسم کی خبریں آنی شروع ہوگئیں کہ آج روسی فوجیں اتنے میل آگے بڑھ گئی ہیں ، آج اتنے میل آگے بڑھ گئی ہیں اور آخر یہ خبریں شائع ہونے لگیں کہ اب وہ عنقریب برلن میں داخل ہو جائیں گی ۔ اس وقت یہ حالات دیکھ کر لوگوں میں بحث شروع ہو گئی تھی کہ انگلستان اور فرانس کی فوجیں پہلے برلن میں داخل ہوں گی یا روس کی ۔ اور قیاس یہ کیا جاتا تھا کہ روس کی فوجیں برلن میں پہلے داخل ہوں گی مگر ایک دن معاً خبر آئی کہ روس کی دس پندرہ لاکھ فوج جو آگے بڑھ رہی تھی اس میں سے لاکھوں زخمی ہو گئے ہیں ۔ لاکھوں ہلاک ہو گئے ہیں اور باقی تمام تر بتر ہو کر ملک میں اِدھر اُدھر دوڑے پھرتے ہیں اور انہیں کوئی جائے پناہ نظر نہیں آتی گویا روسیوں کی تمام فوج هَبَاءً ہو کر رہ گئی اور ذرات بن کر میدانِ جنگ سے اُڑ گئی ۔ اس وقت لوگوں کو معلوم ہوا کہ جرمن والوں کا یہ ایک منصوبہ تھا جس سے کام لے کر اُنہوں نے وں کو شکست دی ۔ وہ جانتے تھے کہ ہمارے تو پخانہ کے مقابلہ میں روسی کچھ کر نہیں سکتے مگر وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان کے ملک میں جا کر اگر ہم لڑے تو ہماری لڑائی آدمیوں سے نہیں بلکہ قلعوں سے ہو گی کیونکہ جب ہم نے تو پخانہ کا منہ کھولا تو یہ دوڑ کر قلعوں میں پناہ گزین ہو جائیں گے اور قلعے چونکہ توپوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں اس لئے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ پس اُنہوں نے یہ ہوشیاری کی کہ وہ بظاہر شکست کھاتے ہوئے واپس لوٹے اور روسیوں کو اس علاقہ میں لے آئے جس میں دلدلیں ہی دلد لیں تھیں ۔ جب دلد لیں عبور کر کے وہ اپنے علاقہ میں پہنچ گئے اور روسی فوجیں بھی ان کے تعاقب میں آگئیں تو انہوں نے اپنے تو پیخانہ کا منہ کھول دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ روسیوں نے بے تحاشا بھاگنا شروع کر دیا اور کئی تو دلدلوں میں پھنس کر ہلاک ہو گئے ، کئی گولہ و بارود سے ہلاک ہوئے اور کئی سخت مجروح ہو کر نا کا رہ ہو گئے اور چونکہ انہیں درمیان میں روسیوں