خطبات محمود (جلد 20) — Page 289
خطبات محمود ۲۸۹ سال ۱۹۳۹ ء ڈسکاؤنٹ ادا کرتا ہے تو یہ کیونکر قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص وقت سے پہلے اپنا وعدہ پورا کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ڈسکاؤنٹ نہیں دے گا ۔ وہ دے گا اور ضرور دے گا مگر وہ چاندی یا سونے کے سکے میں نہیں ہوگا بلکہ نور اور برکت کی صورت میں ہوگا ۔ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے پاس لوگ گئے اور کہا کہ روم کا بادشاہ ہم سے جزیہ مانگتا ہے۔ دیں یا نہ دیں؟ ان کا مقصد اس سوال سے فتنہ پیدا کرنا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر آپ کہیں گے کہ نہ دو تو ان کو شرارت کا موقع مل جائے گا اور کہہ سکیں گے کہ یہ حکومت کا باغی ہے اور اگر کہیں گے کہ دے دو تو پھر کہہ سکیں گے کہ تم جو کہتے ہو کہ میں خدا تعالیٰ کا نبی اور یہود کا بادشاہ ہوں یہ کیونکر صحیح ہے۔ اپنی طرف سے انہوں نے بڑی چالا کی کی اور سمجھا کہ اس طرح آپ پکڑے جائیں گے مگر آپ نے کہا کہ قیصر کیا مانگتا ہے؟ اُنہوں نے سکہ نکال کر دکھایا کہ یہ مانگتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے اس وقت بھی سکہ پر بادشاہ وقت کا کوئی نشان ضرور ہوتا ہوگا ۔ آ آپ نے اس سکہ پر قیصر کی تصویر یا نشان دیکھا تو فرمایا یہ قیصر کا ہے اس لئے اُسے دو اور جو خدا کا ہے وہ خدا کو دوں یعنی یہ روپیہ تو بنا ہوا ہی قیصر کا ہے یہ اسے دو اور اللہ تعالیٰ کا ٹیکس اطا اطاعت کا ہے وہ اُسے دو۔ اللہ تعالیٰ کے سکے اور ہیں اور وہ انہی میں بدلہ ادا کرتا ہے ۔ ہاں یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ اپنے بندوں کی مشکلات کو دیکھ کر کبھی دُنیوی نفع بھی ان کو دے دیتا ہے اور اس دُنیا میں بھی فضل کر دیتا ہے۔ جیسا کہ ہزا رہا احمد یوں نے اس کا تجربہ کیا ہے۔ حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں مکہ میں تھا اور کچھ روپیہ کی ضرورت پیش آئی۔ اُس وقت آپ طالب علم تھے ۔ طالب علموں کی ضروریات بھی محدود ہوتی ہیں چنانچہ اُس وقت آپ کو دس پندرہ روپیہ کی ہی ضرورت تھی آپ فرماتے تھے کہ میں نے دل میں کہا کہ کسی سے مانگوں گا نہیں اور مصلی بچھا کر نماز پڑھنے لگ گیا۔ نماز کے بعد جب مصلی اُٹھا کر چلنے لگا تو دیکھا کہ مصلی کے نیچے ایک پونڈ پڑا ہوا تھا ۔ اب چاہے وہ پہلے ہی وہاں پڑا ہوا ہو، چاہے اس وقت کسی کی جیب سے اُچھل کر وہاں جا پڑا ہوا اور چاہے فرشتوں نے رکھ دیا ہو۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے آپ کی مشکلات کو دیکھ کر اس رنگ میں آپ کی مددفرمادی ۔ میں نے اپنا ایک واقعہ بھی کئی دفعہ سُنایا ہے۔ ایک دفعہ میں سفر پر تھا اور کسی روحانی تحریک