خطبات محمود (جلد 20) — Page 281
خطبات محمود ۲۸۱ سال ۱۹۳۹ء اور کسی شخص کے ساتھ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ نہیں۔پس دوسروں کا اس امر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نقل کرنا بالکل بے معنی بات ہے۔بیشک ہمیں یہ حکم ہے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل فرمانبرداری کریں مگر اُنہی امور میں جو شرعی اور تمدنی ہیں لیکن وہ جو شرعی اور تمدنی امور نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے ساتھ وہ امور مخصوص ہیں ان میں اگر کوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نقل کرتا ہے تو وہ حد درجہ کی گستاخی اور بے ادبی کرتا ہے مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریق تھا کہ آپ نمازیں پڑھتے تھے ، روزے رکھتے تھے ، زکوۃ دیتے تھے اور حج کرتے تھے۔ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم نمازیں بھی کچ پڑھیں ، ہم روزے بھی رکھیں، ہم زکوۃ بھی دیں اور اگر ہم میں استطاعت ہو تو ہم حج بھی کریں مگر ہمارے لئے یہ جائز نہیں کہ ہم تو بیویاں کریں کیونکہ یہ امر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے مخصوص تھا اور جو شخص اس مخصوص امتیاز میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نقل کرتا ہے وہ اوّل درجہ کا گستاخ ہے اور اپنے عمل سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ج گرفت اس پر نازل ہو۔تو اللہ تعالیٰ نے الگ الگ قسم کے احکام دیئے ہوئے ہیں جو نقل والے ہیں وہ اور ہیں اور جو نقل والے نہیں وہ اور ہیں۔اور لوگوں سے علم نہ سیکھنا بھی انہی امور میں سے ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے مختص تھا اور جس میں کوئی دوسرا آپ کی نقل نہیں کر سکتا۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جو لوگ پڑھے ہوئے نہیں وہ علم حاصل کرنے کی طرف توجہ کریں اور جن کو خدا تعالیٰ نے علم دیا ہوا ہے وہ دوسروں کو پڑھائیں۔اس وقت علم حاصل کرنے کا خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو ایک نہایت ہی اعلیٰ موقع عطا کیا ہوا ہے۔اگر کسی شخص نے اپنی غفلت سے اس موقع کو کھو دیا تو اُس کی بدقسمتی میں کوئی محبہ نہیں ہو گا۔دوسری قوموں میں یہ بات بھلا کہاں پائی جاتی ہے کہ ان میں سے علم والے اپنے اوقات کی قربانی کر کے دوسروں کو پڑھا ئیں۔علم سیکھنا اور علم سکھانا بڑی برکت کا موجب ہوتا ہے۔اگر ہماری جماعت اس موقع کو کھو دے تو یہ ایسا ہی ہو گا جیسے بادشاہ کسی کو خلعت دے اور وہ اُسے پھاڑ کر پھینک دے۔جو شخص خلعت کی قدر نہیں کرتا اُسے آئندہ کے لئے خلعت دینے سے گریز کیا جاتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ جب ثواب کے مواقع پیدا کرتا ہے تو جو لوگ ان مواقع کی