خطبات محمود (جلد 20) — Page 280
خطبات محمود ۲۸۰ سال ۱۹۳۹ء چنانچہ انہوں نے اس بزرگ کو کہلا بھیجا کہ آپ اپنی زندگی کیوں رائیگاں کھورہے ہیں؟ بہتر ہے کہ آپ کو ئی شغل اختیار کریں اور روزانہ تھوڑا بہت کام کر لیا کریں۔جو کمائیں اس سے اپنا گزارہ کیا کریں۔اُنہوں نے جواب میں پیغام بھیجا کہ میں اللہ تعالیٰ کا مہمان ہوں اور میرے لئے یہ بالکل ناجائز امر ہے کہ میں کوئی کام کروں۔جب معمولی رئیس کے گھر میں بھی اگر کوئی مہمان ٹھہرے تو وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اُس کا مہمان اپنا کھانا اپنے لئے خود تیار کرے تو میں بھی اگر کھانا پکانے لگوں تو میری اِس حرکت کو خدا کب پسند کرے گا ؟ وہ یقیناً ناراض ہوگا اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی برداشت کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں۔وہ بھی ذہین آدمی کی تھے اُنہوں نے جب یہ بات سنی تو کہلا بھیجا کہ آپ بیشک مہمان ہوں گے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ مہمانی تین دن ہوتی ہے اس کے بعد کوئی مہمانی نہیں اور اگر کوئی مہمان بنا رہتا ہے تو وہ دراصل سوال کرتا ہے۔کے پس آپ اگر مہمان بھی تھے تو آپ کی مہمانی کی کب کی ختم ہو چکی ہے اور اب تو آپ سائل ہیں۔ان کو چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ ملکی چکا تھا کہ میں خود تیرا متکفل ہوں تجھے اپنے لئے کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں اس لئے جب ان کے پاس یہ پیغام پہنچا تو انہوں نے پیغام پہنچانے والے سے کہا کہ میرے بھائی سے کہہ دینا کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سر آنکھوں پر مگر میں جس کے گھر کا مہمان ہوں اُس کا ایک دن ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔پس پہلے مجھے تین ہزار سال تک مہمان بنے رہنے دو اس کے بعد اگر میری مہمانی کے ایام بڑھ گئے تو بیشک اعتراض کرنا۔اب جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا اُس نے تو یہ دعویٰ کر دیا مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ یہ واقعہ سُن کر تم بھی کام کرنا چھوڑ دو اور کہہ دو کہ جب اُس بزرگ کو اللہ تعالیٰ بغیر کام کاج کئے روزی پہنچا دیتا تھا تو ہمیں کیوں نہیں پہنچائے گا ؟ اسی طرح بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں پڑھا اور آخر عمر تک نہیں پڑھا ( بعض مؤرخ لکھتے ہیں کہ آخری عمر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا مگر میری تحقیق یہی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخر عمر تک لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا ) مگر اس لئے کہ خُدا نے خود آپ کو تمام علوم سکھا دیئے تھے اور آپ کو اس امر کی ضرورت نہیں تھی کہ اور لوگوں کی شاگردی اختیار کریں لیکن کی