خطبات محمود (جلد 20) — Page 279
خطبات محمود پہلے سے موجود نہ ہو۔ ۲۷۹ سال ۱۹۳۹ ء ہم بیسیوں صدی میں پیدا ہوئے ہیں اس زمانہ میں ہوئے ہیں جو علم کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ کتا بیں ہمارے مطالعہ میں آتی ہیں جو علوم کے لحاظ سے چوٹی کی کتب سمجھی جاتی ہیں اور وہ لوگ ہمارے دائیں بائیں ہیں جن کا مشغلہ ہر وقت علم پڑھنا اور دوسروں کو پڑھانا ہی ہے مگر میں نے تو آج تک نہ کوئی ایسی کتاب دیکھی اور نہ مجھے کوئی ایسا آدمی ملا جس نے مجھے کوئی ایسی دیکھی اور نہ جھے کوئی ملا جس نے مجھے بات بتائی ہو جو قرآن کریم کی تعلیم سے بڑھ کر ہو یا قرآن کریم کی کسی غلطی کو ظاہر کر رہی ہو یا کم از کم قرآن کریم کی تعلیم کے برابر ہی ہو تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے وہ علم بخشا ہے جس کے سامنے تمام علوم بیچ ہیں ۔ چودھویں صدی علمی ترقی کے لحاظ سے ایک ممتاز صدی ہے اس میں بڑے بڑے علوم نکلے ، بڑی بڑی ایجادیں ہوئیں اور بڑے بڑے سائنس کے عقدے حل ہوئے مگر یہ تمام علوم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے علم کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکے ۔ تو ان امور میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نقل کرنا محض نادانی اور حماقت ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کا آپ سے ایک امتیازی سلوک تھا اور اس نیازی سلوک میں کوئی دوسرا آپ کا شریک نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اگر کسی دوسرے ۔ ہوسکتا۔ سے خدا تعالیٰ کسی اور امتیازی سلوک کا وعدہ کر دے تو اس سلوک میں بھی کوئی اور اس کا شریک نہیں ہو سکتا ۔ کہتے ہیں ایک بزرگ تھے جو تو گل کر کے گھر میں بیٹھے رہتے تھے روزی کمانے کے لئے کوئی کام نہیں کیا کرتے تھے جو کچھ خدا انہیں بھیج دیتا وہ کھا لیتے ۔ جب لوگ انہیں کہتے کہ آپ سارا دن بے کار رہتے ہیں یہ ٹھیک بات نہیں آپ کو چاہئے کہ آپ اپنی روزی کے لئے جدو جہد کریں تو وہ کہا کرتے کہ میں اللہ تعالیٰ کا مہمان ہوں اور مہمان کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ خود روٹی پکائے ۔ اللہ تعالیٰ مجھے روٹی بھیج دیتا ہے اور میں کھا لیتا ہوں ۔ بعض لوگ جو ان کی حقیقت کو نہیں سمجھتے تھے وہ خیال کرتے کہ شاید سُستی کی وجہ سے وہ کام نہیں کرتے ۔ آخر لوگوں نے اُن کے ایک دوست کو جو خود بھی ولی اللہ تھے تحریک کی کہ آپ انہیں سمجھائیں کہ یہ اپنی زندگی برباد نہ دوس کریں اور کچھ کما کر کھایا کریں سارا دن تو کل کر کے بیٹھ رہنا اور جد و جہد نہ کرنا یہ اچھی بات نہیں ۔ کا سارادن تو