خطبات محمود (جلد 20) — Page 278
خطبات محمود ۲۷۸ سال ۱۹۳۹ء سوا گر کوئی شخص ایسا ہو تو پھر اسے کسی دُنیوی اُستاد سے تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے کہ آپ نے کسی انسان سے علم نہیں سیکھا مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ لوگ کہنا شروع کر دیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھے ہوئے نہیں تھے تو ہم کیوں تعلیم حاصل کریں؟ اگر کوئی شخص ایسا کہتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح تم بھی یہ دعوی کرو کہ تمہارے ساتھ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تمہیں خود پڑھائے گا تو ہم تمہیں کبھی لوگوں سے پڑھنے کے لئے نہ کہیں گے اور سمجھ لیں گے کہ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام علوم سکھا دیئے تھے اُسی طرح وہ تمہیں تمام علوم سکھا دے گا۔اس صورت میں اگر تم خدام الاحمدیہ کو یہ جواب دو کہ ہم تمہارے مقرر کردہ اُستادوں سے نہیں پڑھتے۔ہمارے ساتھ خُدا کا یہ وعدہ ہے کہ وہ کی آپ ہمیں پڑھائے گا تو ہم تمہارے اس غذر کو تسلیم کر لیں گے اور کہیں گے کہ واقع میں تمہیں کسی انسان سے پڑھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ تم کو جو اُستاد ملا ہے اُس سے بڑا اور کوئی اُستاد ہے ہی نہیں لیکن جب خدا تعالیٰ کا تمہارے ساتھ کوئی وعدہ نہیں اور تم نقل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کرنا کی چاہتے ہو جن کو خدا نے تمام علوم سکھائے تو تمہاری مثال بالکل وہی بن جاتی ہے کہ کو اہنس کی چال چلا اور اپنی بھی بھول گیا۔تم بھی اپنی چال چھوڑ دیتے ہو اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات میں نقل کرتے ہو جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام کی بنی نوع انسان پر امتیاز بخشا ہے۔پس تم دونوں طرف سے نا کام رہتے ہو نہ تم اپنی کوشش سے کسی علم کو حاصل کرتے ہو اور نہ خُدا تمہیں علم دیتا ہے کیونکہ اس کا تمہارے ساتھ کوئی وعدہ نہیں ہوتا۔پس یاد رکھو ایسے معاملات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نقل کرنا نادانی اور حماقت ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پڑھ تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان پڑھ ہونے کے یہ معنے نہیں کہ آپ کو کوئی علم نہیں آتا تھا بلکہ صرف یہ معنے ہیں کہ آپ نے کسی انسان سے علم نہیں پڑھا۔ورنہ وہ کون سا علم ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حاصل نہیں تھا اور کونسی وہ نئی بات ہے جس کی مذہب و اخلاق کے لئے ضرورت ہو اور جسے آج تحقیق جدید نے پیش کیا ہو اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم میں وہ