خطبات محمود (جلد 20) — Page 262
خطبات محمود ۲۶۲ سال ۱۹۳۹ ء نہ ہوں تو خواہ ایک بھی اعتراض آپ پر نہ پڑے آپ جھوٹے ہوں گے۔ پھر میں ان سے کہتا ہوں کہ میں آپ لوگوں کو قرآن کریم کا ایک گر بتا ہوں جو سورۂ فاتحہ میں بیان ہے اور یہ بیان کرنے سے پہلے میں نے جو فقرے کہے وہ مجھے ابھی تک یاد ہیں ۔ میں نے کہا کہ وہ گر ایسی سورۃ میں بیان کیا گیا ہے جو قرآن کریم کی ابتدا میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ایک ہے اور جسے نماز کی ہر رکعت میں پڑھا جاتا ہے اور وہ سورہ فاتحہ ہے۔ اس کے بعد میں نے سورۂ فاتحہ پڑھی اور کہا کہ اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے تین گروہ بیان کئے ہیں اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ، الْمَغْضُوبِ اور الضَّالِّينَ اور بتایا ہے کہ دنیا میں یا تو وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کے انعام نازل ہوئے یا جن پر اس کا غضب بھڑکا اور یا ضال جنہوں نے خدا تعالیٰ کے راستہ کو چھوڑ دیا اور بندوں کو خدا کی جگہ دے دی ۔ غرض یہ تین گروہ ہی قرآن کریم نے بیان کئے ہیں منعم علیہ، مغضوب اور ضال ۔ اگر تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام منعم علیہ گروہ میں شامل ہیں تو خواہ ان پر کتنے اعتراض ہوں آپ جھوٹے نہیں ہو سکتے اور اگر مغضوب یا ضال میں سے ہیں تو پھر خواہ ایک بھی اعتراض نہ ہو آپ سچے نہیں ہو سکتے ۔ یہ ایک چھوٹا سا نکتہ ہے جس کے ماتحت ہم دیکھ لیتے ہیں کہ آپ کس گروہ میں ہیں ۔ میں جس وقت یہ تقریر کر رہا ہوں تو میں نے دیکھا کہ مصریوں میں سے ایک شخص اس طرح سر ہلا رہا ہے کہ گویا اس سے متاثر ہے اس پر اس کے ساتھی ڈرے ہیں اور اُنہوں نے خیال کیا کہ پہلے جو شخص متاثر تھا ہم تو اُسے بگاڑنے کے لئے آئے تھے مگر اب تو یہ ڈر ہے کہ اسے بگاڑنے کے بجائے اور بھی متاثر نہ ہو جائیں ۔ اس لئے جو اشد مخالف ہیں وہ ہنس کر کہتے ہیں کہ اجی ان باتوں سے کیا ہوتا ہے؟ آپ اصل سوال کا جواب دیں۔ میں پھر کہتا ہوں کہ سوالات تو ہزاروں ہیں اگر میں آپ کے اس سوال کا جواب دوں تو اوّل تو اتنے تنگ وقت میں آپ کی تسلی ممکن نہیں اور اگر ہو بھی جائے تو باقی سوال رہ جائیں گے اور آپ کو ہدایت کا موقع نہیں مل سکے گا اگر آپ کو اپنی ہدایت مقصود ہے تو آپ یہ طریق کیوں اختیار نہیں کرتے ؟ یہ کہہ کر میں اس شخص کی طرف دیکھتا ہوں جس کے متعلق مجھے خیال ہے کہ اس کے دل میں ہدایت ہے اور جسے بگاڑنے کے لئے وہ لوگ گفتگو کرنے آئے ہیں اور اس کے چہرہ کو دیکھ کر