خطبات محمود (جلد 20) — Page 26
خطبات محمود ۲۶ سال ۱۹۳۹ء رہا ہے۔ایسے نازک دور سے کہ اگر اس وقت اس کی حفاظت کے لئے کوئی جماعت کھڑی نہ ہوتی گی تو اس کے مٹ جانے میں کوئی شبہ نہیں۔یوں تو مسلمان بیشک دنیا میں رہیں گے مگر نام کے مسلمانوں سے اسلام کو کیا فائدہ؟ قرآن دُنیا میں اس لئے نہیں آیا تھا کہ اسے جز دانوں میں بند کر کے رکھا جائے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دُنیا میں اس لئے نہیں آئے تھے کہ لوگ منہ سے آپ کو خدا کا رسول تسلیم کر لیں بلکہ اس لئے آئے تھے کہ خدا تعالیٰ کی تعلیم کو دُنیا میں قائم کریں۔اگر یہ نہیں تو مسلمانوں کا وجود تعداد میں خواہ کتنا کیوں نہ بڑھ جائے بے فائدہ ہے۔سفید چیز کو کالا کر دینے سے وہ کالی نہیں ہو جاتی اور کالی کو سفید کہہ دینے سے وہ سفید نہیں ہو جاتی۔اسی طرح جس کا دل کا فر ہو اُس کا نام مسلمان ہونے سے کوئی فائدہ نہیں۔اس نازک موقع پر ایک جماعت احمدیہ ہی ہے جس سے اُمید کی جاتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے مقابلہ کے میدان میں آگے آئے گی اور جلد اسلام کے حقیقی پیروؤں کی اتنی تعداد پیدا کر لے گی کی کہ جو دنیا کا مقابلہ آسانی سے کر سکے۔گو باہر سے بھی اطلاعات آنی شروع ہو گئی ہیں مگر اس کی کے لئے آخری تاریخ ۸/ مارچ مقرر ہے۔* دعوۃ و تبلیغ کو چاہئے جس طرح تحریک جدید کا عملہ محنت کر کے سب جماعتوں سے وعدہ لکھوا چکا ہے وہ بھی خاص زور دے کر فہرستیں مکمل کریں اور سلسلہ کے اخبار اس کام میں ان کی پوری مدد کریں اور اس لحاظ سے وقت بہت کم ہے اس لئے کی میں پھر دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس سے بہت زیادہ جد و جہد کی ضرورت ہے جو وہ کر رہے ہی ہیں۔قادیان سے فہرستیں آچکی ہیں اور ان کو بہت جلد تحریک جدید اور نظارت دعوۃ و تبلیغ کی طرف سے ان کے فرائض سے مطلع کر دیا جائے گا اور میں ہر ایک احمدی سے امید رکھتا ہوں کہ وہ پوری محنت ، ہمت اور کوشش سے کام کرے گا اور اس سال کے آخر تک ہر وہ شخص جو کوتا ہی کرے گا میں مجبور ہوں گا یہ قرار دینے پر کہ اُس نے احمدیت کا اچھا نمونہ نہیں دکھایا اور کہ وہ محض نام کا احمدی ہے حقیقتاً ہمارے ساتھ شامل نہیں۔اس کے بعد میں قادیان کے دوستوں کو بھی اور باہر والوں کو بھی تحریک جدید کے مالی حصّہ یہ خطبہ دیر سے چھپ رہا ہے اس لئے میں ہندوستان کے لئے ۱٫۸ پریل کی تاریخ مقرر کر ☆ دیتا ہوں۔