خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 246

خطبات محمود ۲۴۶ سال ۱۹۳۹ء ضرورتوں میں سے ہے اس لئے ذہانت کو تیز کریں اور جب ذہانت پیدا ہو جائے اور عقل تیز ہو تو ہزار ہانئے رستے نکل سکتے ہیں۔دُنیا میں کئی قومیں ہیں اور سب کے ایک ہی جیسے ہاتھ اور منہ اور آنکھیں وغیرہ ہیں مگر بعض ان میں سے حاکم ہیں اور بعض محکوم۔حاکم وہی ہیں جو ذہانت سے کام لیتی ہیں۔شدت ذہانت ایک ایسی طاقت ہے جو قوم کو غالب کر دیتی ہے اور جب اس کے ساتھ قوت عملیہ بھی شامل ہو جائے تو ایسی قوم کا دُنیا کی حاکم بن جانا یقینی ہو جاتا ہے۔کی میں نے دیکھا ہے ہندوستانی ہمیشہ اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ انگریز صرف چار کروڑ ہیں اور کی چھ ہزار میل سے آ کر ہمارے ملک پر حکومت کر رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ انگریزوں کو اس کی توفیق کیسے ملی؟ آخر کوئی چیز تو ان میں ایسی تھی جس کی وجہ سے انہیں یہ فضیلت حاصل ہوئی۔یونہی تو اللہ تعالیٰ ایک قوم کی آزادی چھین کر دوسری کو اس کا حاکم نہیں بنا دیتا۔آخر اس کی وجہ ہونی چاہئے۔ہندوستانی سپاہی ہمیشہ برطانوی سپاہیوں کو بُرا بھلا کہتے اور گالیاں دیتے ہیں اور تے ہیں کہ وہ بُزدل ہوتے ہیں۔ہمارے برابر لڑائی نہیں لڑ سکتے۔صوبوں کے گورنر اور دوسرے افسر بھی ہندوستانی سپاہیوں کی تعریف میں بڑی دھواں دھار تقریریں کرتے اور کہتے ہیں کہ وہ بہت وفادار ہوتے ہیں ، بہادر ہوتے ہیں اور بے شک وہ تنخواہ لیتے اور لڑتے ہیں اور مرتے بھی ہیں لیکن ہمارا تجربہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر گورا سپاہیوں کو گالیاں دیتے ہیں اور یہاں تک کہتے ہیں کہ وہ جنگ کے موقع پر صابن پی لیتے ہیں تا بیمار ہو جائیں اور لڑائی میں شریک ہونے سے بچ جائیں مگر ہم دلیری کے ساتھ لڑتے ہیں۔یہ باتیں ہمیشہ سے سننے میں آتی ہیں اور ہم بھی بچپن میں یہ سُنا کرتے تھے اور آج تک سُن رہے ہیں مگر میں نے جونہی ہوش سنبھالا یعنی دس گیارہ سال کی عمر سے ہی یہ سوال کرنا شروع کر دیا کہ اگر وہ ایسے ہی بُزدل ہیں تو کی تم پر حکومت کس طرح کرتے ہیں؟ ان کے اندر کونسی ایسی خاص بات ہے جس کی وجہ سے وہ ہمارے ملک پر قابض ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ وہ بزدل ہوں یا کچھ ہوں اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے اندر ذہانت ضرور موجود ہے اور یہ بھی ایک قسم کی بہادری ہے۔دُنیا میں مختلف قسم کی بہادر یاں ہیں اور مشکل وقت پڑنے پر نہ گھبرانا اور اس کے حل کا کوئی نہ کوئی رستہ تلاش کر لینا یہ بھی ایک قسم کی