خطبات محمود (جلد 20) — Page 245
خطبات محمود ۲۴۵ سال ۱۹۳۹ء جس کے پاس سے انسان چپ چاپ گزر جاتا ہے اور اسے خیال بھی نہیں ہوتا کہ اسے دیکھے۔ہرفن کا یہی حال ہے۔کاتب ہیں جو کتابت کرتے ہیں ان کی انگلیاں بھی ویسی ہی ہیں جیسی دوسرے لوگوں کی لیکن وہ اتنا خوبصورت لکھتے ہیں کہ خواہ مخواہ پڑھنے کو دل چاہتا ہے مگر بعض دوسرے لوگ ایسا گندا لکھتے ہیں کہ ہزار کوشش کے باوجود نہیں پڑھا جاتا۔اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ کا تب لکھتے وقت سوچتا ہے ہر لفظ اور ہر نقطہ کو دیکھتا ہے کہ یہ مجھے اچھا لگتا ہے یا نہیں۔اگر میری آنکھوں کو اچھا نہیں لگتا تو پڑھنے والوں کو کیونکر اچھا لگے گا وہ ہر لفظ پر غور کر کے اس میں ایک حُسن پیدا کرتا ہے۔دتی کے ایک کا تب میر پنجہ کش گزرے ہیں جن کا ہر حرف ایک روپیہ قیمت پاتا تھا وہ اگر کسی فقیر پر مہربان ہوتے تو اسے ایک حرف لکھ دیتے تھے کسی کوب کسی کو ت کسی کی کوج اور فقیر اسے لے جا کر جامع مسجد کے نیچے بیچ دیتے تھے۔لوگ بڑے شوق سے ایک ایک کی حرف ایک ایک روپیہ میں خرید کر گھروں میں بطور زینت لگاتے تھے اور پھر ایسے بھی لکھنے والے دُنیا میں موجود ہیں کہ جن کا خط دیکھ کر ہی سر میں درد شروع ہو جاتا ہے اور یہ بھی پتہ نہیں لگتا کہ یہ کسی آدمی نے لکھا ہے یا کوئی کیڑا سیا ہی میں سے گزر گیا ہے۔لاکھ سر پٹکو وہ پڑھا ہی نہیں جاتا بلکہ در دسر سے بھی بڑھ کر زحمت اٹھانی پڑتی ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض خطوط ایسے آتے ہیں کہ گھنٹوں لگے رہتے ہیں پھر بھی کچھ پتہ نہیں لگتا پہلے میں پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں پھر دفتر والوں سے کہتا ہوں کہ اِس کا مطلب نکالو اور پھر بعض اوقات سارے زور لگاتے ہیں مگر لفظی پڑھا نہیں جاتا۔اگر چہ لکھنے والے نے اپنی طرف سے بڑی محنت سے لکھا ہوتا ہے۔تو کوئی چیز دُنیا میں ایسی نہیں کہ جسے حسنِ تفکر سے تزئین حاصل نہ ہو اور خدام الاحمدیہ نے اس کام میں جو غلطی کی ہے وہ بھی اسی وجہ سے ہے کہ انہوں نے حسن تفکر سے کام نہیں لیا اور میں اس بات کو پبلک میں بیان نہ کرتا اگر بیرونی جماعتوں سے بھی ایسی ہی غلطی کا ڈر نہ ہوتا اور اگر اس واقعہ سے نصیحت کا کام نہ لینا ہوتا۔میں نے خدام الاحمدیہ کو پہلے بھی نصیحت کی تھی کہ ذہانت کی پیدا کریں اور پھر مرکزی مجلس کو تو سب سے زیادہ اس کا ثبوت دینا چاہئے لیکن اس کام میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرکزی عہدیداروں نے دخل ہی نہیں دیا محلہ والوں پر ہی چھوڑ دیا ہے۔اس موقع پر میں پھر ان کو توجہ دلاتا ہوں کہ ذہانت اور عقل سے کام لینا انتہائی قومی