خطبات محمود (جلد 20) — Page 244
خطبات محمود ۲۴۴ سال ۱۹۳۹ ء لوگوں کی طرف توجہ نہیں ہوتی اس لئے دماغ کو سوچنے کی طرف توجہ ہوتی ہے اور ذہن ترقی کرتا ہے۔ تو زیادہ باتیں کرنا فکر کی عادت کو کم کرتا ہے اور ہمارے نو جوان چونکہ یا تو باتیں کرتے ہیں اور یا پھر سوتے اور کھاتے ہیں اس لئے دماغ کی طاقت کو بڑھانے کا ان کو بہت کم موقع ملتا ہے ۔ اور انسانی فطرت کا گہرا مطالعہ کرنے کی طرف توجہ نہیں ہوتی ۔ وہ اس بات کو سمجھ ہی نہیں سکتے کہ کس ہرا مطالعہ کرنے کی طرف توجہ نہیں ہوتی ۔ طرح کسی کو نیکی کی تحریک کرنا زیادہ مفید ہو سکتا ہے؟ کس طرح انسانی ذہن کو سلسلہ کی ضروریات کی طرف زیادہ سے زیادہ متوجہ کیا جا سکتا ہے؟ کس طرح اصلاح کے لئے آسانی سے تیار کیا جا سکتا ہے؟ وہ صرف باتیں ہی کرنا جانتے ہیں اور باتیں کرنے سے ہی سمجھ لیتے ہیں کہ کام ہو جائے گا ۔ حالانکہ دنیا میں کام باتیں کرنے والے نہیں بلکہ سوچنے والوں نے کیا ہے ۔ پس ذکرِ الہی کی عادت ، مراقبہ اور فکر سے کام لینا انسانی دماغ کو طاقت دینے اور کام میں خوبصورتی پیدا کرنے کے لئے بہت ضروری ہے۔ سوچنے اور فکر کرنے سے کام میں خوبصورتی پیدا ہوتی ہے۔ دیکھو وہ بھی معمار ہی تھے جنہوں نے تاج محل کا روضہ تعمیر کیا اور وہ بھی معمار ہی ہیں جنہوں نے دارالصحت کے مکان بنائے ہیں اُنہوں نے بھی اینٹ پر اینٹ رکھی اور انہوں نے بھی مگر ایک نے فکر سے کام لے کر تحسین عمل پیدا کی اور تاج محل بنا دیا اور دوسرے نے غور وفکر سے کام نہ لے کر اپنے کام کو خوبیوں سے عاری کر دیا۔ کام تو دونوں کا ایک ہی ہے مگر ایک نے فکر سے کام لے کر اس میں خوبصورتی پیدا کی اور دوسرے نے ایسا نہ کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں کے کاموں میں اتنا ہی فرق ہو گیا جتنا دارالصحت کے مکانات اور تاج محل میں ہے ۔ ایک نے ایسا مکان بنایا کہ اگر مُفت بھی رہنے کو دیا جائے تو انسان پسند نہیں کرے گا کہ اس میں رہے لیکن دوسرے نے اس میں ایسی خوبصورتی پیدا کی کہ اگر صرف دیکھنے کے لئے پانچ دس روپے ٹکٹ ہو تو لوگ شوق سے دیکھیں گے ۔ بعض لوگ یورپ اور امریکہ سے اسے دیکھنے کے لئے آتے ہیں ۔ وہاں وہ رہ نہیں سکتے صرف دس پندرہ منٹ پھرتے ہیں یا ایک دو فوٹو لے لیتے ہیں مگر صرف اس کے لئے وہ ہزار ہا روپیہ خرچ کرتے ہیں کہ تاج محل کو نگاہ بھر کر دیکھ سکیں ۔ تو یہ حسن کار کا نتیجہ ہے۔ معمار نے فکر کر کے اس ترتیب سے اینٹیں رکھیں کہ دیکھنے والوں کو آنکھوں کی لذت اور دل کا سرور حاصل ہوتا ہے۔ یہ کام بھی معمار کا ہی ہے اور دوسرا بھی معمار کا ہی ہے۔