خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 243

خطبات محمود ۲۴۳ سال ۱۹۳۹ء بیرونی جماعتوں کو ہوشیار کرتا ہوں کہ وہ ایسی نادانی کا ارتکاب نہ کریں بلکہ چاہئے کہ ہر فرد جماعت کی سے دریافت کریں کہ وہ کتنا چندہ دے گا ؟ ایک آنہ سے لے کر ایک سو ساٹھ آ نہ تک کوئی جتنا چاہے دے سکتا ہے اسی طرح اس حد تک وہ اپنے اور اپنے بیوی بچوں کی طرف سے بھی چندہ کی دے سکتا ہے پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اپنی طرف سے مثلاً دس روپے بیوی کی طرف سے پانچ اور بچوں کی طرف سے چار چار آنہ دے دے۔غرض یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اپنا زیادہ اور بیوی بچوں کا کم چندہ دے دے۔بہر حال جب ایک آنہ سے لے کر دس روپے تک کی تحریک تھی تو خدام الاحمدیہ کا فرض تھا کہ لوگوں کو موقع دیتے کہ کوئی جتنا چاہے لکھوا دے انہیں خود ہی ایک آنہ چندہ لکھ کر لوگوں کو نہیں بھجوانا چاہئے تھا لیکن انہوں نے خود تو ہر ایک کے نام کے آگے ایک آنہ لکھ دیا اور پھر امید یہ رکھی کہ لوگ زیادہ دے دیں گے۔نتیجہ یہ ہوا کہ عام طور پر لوگوں نے ایک ایک آنہ ہی دیا ہے۔میں نے یہ چندہ کی لسٹ دیکھی ہے اس سے میں اندازہ کرتا ہوں کہ زیادہ دینے والے پانچ سات سے زیادہ نہیں ہیں۔حالانکہ میری تجویز پر اگر عمل کیا تی جاتا تو کئی گنا زیادہ چندہ ہو سکتا تھا اور میرا اندازہ ہے کہ وہ پچاس ساٹھ آدمی جنہوں نے اپنے خیالات کا اظہار مجھ پر کیا تھا ان سے ہی ایک ہزار تک وصول ہوسکتا تھا۔گو ہم نے ان لوگوں سے زیادہ چندہ لیا نہیں تھا مگر پھر بھی لوگوں کے خیالات کا تو علم ہو سکتا ہے لیکن خدام الاحمدیہ نے سب کے نام کے آگے ایک ایک آنہ لکھ کر گویا اس تحریک کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی یا یوں کہو کہ خالی ہڈی رہنے دی مگر اس میں سے مغز نکال دیا۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی بار توجہ دلائی ہے مجھے افسوس ہے کہ جماعت کا نوجوان طبقہ عقل و ذہانت سے بہت کم کام لیتا ہے اور انسانی فطرت کا بہت کم مطالعہ کرتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں جب موقع ملے گئیں مارتے رہتے ہیں اور غور و فکر کی عادت نہیں ڈالتے اور زیادہ گئیں مارنے اور باتیں کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سوچ نہیں سکتے کیونکہ جب زبان بولتی ہے تو دماغ کام نہیں کرسکتا۔اسلام نے ذکر الہی کا حکم اسی لئے دیا ہے کہ جب انسان خاموش ہو تو دماغ کام کرتا ہے۔جس وقت انسان باتیں کی کر رہا ہو اُس وقت اس کے مد نظر یہ بات ہوتی ہے کہ سننے والوں کے لئے زیادہ سے زیادہ دلچسپی کا سامان ہو۔اس لئے دماغ کو سوچنے کی طرف توجہ نہیں ہوتی لیکن ذکر الہی کے وقت چونکہ