خطبات محمود (جلد 20) — Page 242
خطبات محمود ۲۴۲ سال ۱۹۳۹ ء اُس سے یہ امید رکھنا کہ وہ خود بخود دس روپے دے دے گا انسانی فطرت سے نا واقعی ہے۔ شاید سو میں سے ایک آدمی ایسا ہو گا کہ جو ایک آ نہ مانگنے پر بھی دس روپیہ دے دے مگر ننانوے ایسے ہوں گے جو کہیں گے کہ اچھالے لو ایک آنہ اور ان کی اس نادانی کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ سوائے دو چار آدمیوں کے باقی سب نے ایک ایک آنہ ہی دیا ہے۔ حالانکہ جس روز میں نے تحریک کی تھی قادیان میں ہی کئی لوگ ہیں ہیں اور تمہیں تھیں روپیہ دینے کے لئے تیار تھے بلکہ بعض تو سو سو دینے پر آمادہ تھے اور جیسا کہ میں نے بتایا تھا ایک عورت نے اپنی دوسو روپیہ کی چوڑیاں دے دی تھیں اور اصرار کے باوجو د واپس نہیں لیتی تھیں مگر چندہ میں سب نے ایک ایک آ نہ ہی دیا ہے ۔ جب وہ فہرست ہمارے گھر پہنچی تو میں نے کہا کہ تمہارا وعدہ دس روپیہ کا تھا اس ایک ایک آنہ سے دھوکا نہ کھانا۔ دوسری غفلت انہوں نے یہ کی کہ بارہ ایک بجے تک مجھ سے کوئی چندہ لینے نہ آیا آخر میں نے خود ہی دفتر والوں کو بُلا کر دس روپے بھجوائے اور ساتھ کہا کہ ان کو ملامت کی جائے کہ جب مجھ سے کوئی مانگنے کے لئے نہیں آیا تو میں کس طرح سمجھ سکتا ہوں کہ دوسروں سے مانگا گیا ہوگا۔ پس اس کام میں خدام الاحمدیہ کا طریق عمل نا پسندیدہ ہے گو ا نہوں نے چندہ تو کیا ہے مگر معلوم ہوتا ہے دل سے کام نہیں کیا۔ یہ ان کا پہلا کام ہے جو میرے سامنے آیا ہے اور افسوس ہے کہ یہی صحیح طور پر نہیں ہوا۔ اس لئے آئندہ مجھے ان کی بہت سی رپورٹوں پر ڈسکاؤنٹ لگانا پڑے گا۔ میں امید کرتا ہوں کہ باہر کی جماعتیں اس غلطی کا ارتکاب نہیں کریں گی ۔ چاہئے کہ ہر گھر کے افراد کی فہرست تیار کر لی جائے اور پھر کہا جائے کہ آپ اتنے گس ہیں اور ایک آنہ سے لے کر دس روپیہ فی کس تک چندہ میں دے سکتے ہیں ۔ اب آپ اپنے نام کے آگے لکھ دیں کہ کتنا دیں گے اس طرح تو لوگ زیادہ بھی دینے کے لئے آمادہ ہو سکتے ہیں لیکن جب مانگا ہی ایک آ نہ جائے اور پہلے ہی سب کے آگے ایک آنہ لکھ کر بھیج دیا جائے تو ہر شخص یہی کہے گا کہ جب سلسلہ کی طرف سے مانگا ہی ایک آنہ گیا ہے تو میں زیادہ کیوں دوں؟ میں نے تو دس روپیہ یعنی ایک سو ساٹھ آ نہ تک کی تحریک کی تھی مگر انہوں نے ایک آ نہ کر دیا اور اس طرح آنہ کی کی نہ دیا گویا میری نصیحت کا ایک سو انسٹھ حصہ تلف کر دیا اور صرف ایک حصہ پر عمل کیا ۔ پس میں