خطبات محمود (جلد 20) — Page 201
خطبات محمود ۲۰۱ سال ۱۹۳۹ء - در اصل انگلستان میں نہیں بلکہ جرمنی اور پیجیئم میں بنتی تھیں۔خصوصاً بعض دوائیاں ایسی تھیں جو جرمنی میں بنتی تھیں۔ہندوستان میں چالیس ہزار تھان بڑا مشہور ہے یہ تعلیم میں بنتا ہے۔انگریز تا جر وہاں سے لا کر ہندوستان میں بیچتے تھے اور لوگ سمجھتے تھے کہ انگلستان میں ہی بنتے ہیں۔غرض جنگ کے دنوں میں جب ایسی اشیاء آنی بند ہوئیں یا کم ہوگئیں تو معلوم ہوا کہ یہ دوسرے ملکوں کی تھیں۔اسی طرح پرانے زمانہ میں تجارت عربوں کے ہاتھ میں تھی۔وہ ہندوستان سے خرید کر لے جاتے تھے اور پھر مختلف ممالک میں پہنچاتے تھے۔اسی طرح ایک مشہور کپڑاڈ مسکس ہے۔یہ دراصل دمشق سے جاتا تھا۔ایک اور کپڑا ٹفٹ ہے یہ دراصل طافتہ ہے۔گویا تمام مشہور کپڑوں کے نام یا تو عربی شہروں یا عربی الفاظ سے اخذ کردہ ہیں مگر آج ہمیں یہ خیال تک بھی نہیں آتا کہ یہ چیزیں ہماری ہیں اور یہاں سے جاتی تھیں۔اس زمانہ میں تمام تجارت عربوں اور ایرانیوں کے ہاتھ میں تھی مگر ایشیائیوں کے بخل کی وجہ سے یہ یورپ کے ہاتھ میں چلی گئی۔یورپ میں ایک آدمی کوئی چھوٹی سی چیز لیتا ہے اور اُسے ایسی طرح پھیلاتا ہے کہ ہر شخص اُسے کی خرید نے پر مجبور ہو جاتا ہے۔حضرت خلیفہ اوّل فرمایا کرتے تھے کہ یہ بچوں اور بیماروں کے لئے جو غذا ئیں ولایت سے آتی ہیں جیسے بیلنس فوڈ وغیرہ یہ یہی جو اور جوار کا آٹا وغیرہ ہیں۔کسی شخص کو علم ہو گیا اس نے خوبصورت ڈبوں میں بند کیا لیبل لگائے ، ساری دُنیا میں اشتہار دیا اور اس طرح فائدہ اُٹھایا لیکن ہمارے ملک میں اگر کسی کو علم ہوتا تو وہ اگر اس کی ذات تک نہیں تو اُس کی کے خاندان تک محدود رہتا یا زیادہ سے زیادہ اس گاؤں تک محدود رہتا مگر وہ لوگ اپنے علم کو عام کر دیتے ہیں۔جرمنی میں تو یہ قانون ہے کہ ہر دوائی کے ساتھ نسخہ بھی لکھ دیا جائے۔اُنہوں نے ایسا قانون بنایا ہوا ہے کہ کسی نئی دوا کا دریافت کرنے والا ہی چند سالوں تک اسے تیار کر سکتا ہے۔اس عرصہ میں اگر کوئی اور تیار کرے تو اُسے سزا دی جاتی ہے۔اس عرصہ کے بعد جس کا جی چاہے تیار کرے اور اس طرح دریافت کرنے والے کو بھی کافی فائدہ پہنچ جاتا ہے اور علم بھی محدود نہیں رہتا۔وہ لوگ چھپاتے نہیں بلکہ عام کرتے ہیں اور یہی اُن کی کامیابی کا راز ہے۔یہی مرہمیں جو یہاں کے نائیوں کے پاس ہیں اگر اُن لوگوں کے پاس ہوتیں تو وہ اس سے لاکھوں کروڑوں روپیہ کماتے اور اُن کی اشاعت بھی کر دیتے۔وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے