خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 20

خطبات محمود ۲۰ سال ۱۹۳۹ ء ذمہ داری کو سمجھتے ، اُن میں حقیقی بیداری پیدا ہوتی اور وہ سمجھتے کہ احمدیت کو اللہ تعالیٰ نے کیوں قائم کیا ہے تو آج تک لاکھوں آدمی قادیان اور اس کے ارد گر د احمدی ہو چکے ہوتے ۔ ایک یا دولوگوں کو ہر سال احمدی بٹالینا کوئی مشکل کام نہیں اور اتنے بنا لئے جائیں تو آپ غور کر سکتے ہیں کہ دس سال میں ہی جماعت کتنی ترقی کر سکتی ہے۔ آپ لوگ اندازہ کر لیں کہ آج سے آٹھ سال ہی قبل قادیان میں احمدیوں کی تعداد باون سو کے قریب تھی ۔ اگر اس میں سے چالیس فیصدی مرد تبلیغ کرنے کے قابل سمجھ لئے جائیں تو وہ دو ہزار ہوتے ہیں اور اگر یہ دو ہزار احمدی اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے اور ایک ایک احمدی ہی اور بناتے تو ۱۹۳۱ء میں یہ چار ہزار ہو جاتے اور اگر پھر وہ بھی ایک ایک اور بناتے تو ۱۹۳۲ء میں آٹھ ہزار ہو جاتے اور اگر یہ بھی محنت کے کام کرتے تو ۱۹۳۳ء میں یہ تعداد ۱۶ ہزار ہو جاتی اور اگر وہ اسی محنت کو قائم رکھتے تو ء میں بتیس ہزار اور ۱۹۳۵ء میں چونسٹھ ہزار ۱۹۳۷ء میں ۔ ۶۰۰۰ ۲۵ ہو جاتے ۔ پھر اگر ان کے بیوی بچوں کو ساتھ شامل کر لیا جائے تو جماعت کئی لاکھ کی ہو سکتی تھی ۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ شیخ چلی والی باتیں ہیں اور یہ وہی بات ہے جسے خیالی پلاؤ پکانا کہتے ہیں مگر حقیقتاً یہ بات نہیں ۔ جن لوگوں نے اپنی ذمہ داری کو سمجھا ہے اُنہوں نے عملاً ایسا کر کے دکھا دیا ہے۔ ساتھ ۱۹۳۴ء ۔۔۔ ۱۲۸۰ اور ۱۹۳۸ء میں صحابہ کرام کی جدوجہد سے پچاس سال کے عرصہ میں تین کروڑ مسلمان بن چکے تھے اور سپین کے ساحلوں سے لے کر چین کی حدود تک بلکہ تمام معلومہ دُنیا میں اسلام کا پیغام پہنچ چکا تھا اور اُس وقت کی متمدن دنیا کے اسی فیصدی علاقہ پر ان کی حکومت قائم ہو چکی تھی ۔ پس یہ باتیں نا ممکن نہیں ہیں ۔ بشرطیکہ لوگ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور جو شخص احمدی ہو جائے وہ سمجھ لے کہ میں کوئی نئی مخلوق ہو گیا ہوں ۔ اگر وہ صرف یہ خیال کرتا ہے کہ میں نے چند عقا ئد بدل لئے ہیں باقی میں ویسا کا ویسا ہی زمیندار ہوں ، ویسا ہی لوہار یا ترکھان ہوں جیسا پہلے تھا تو وہ کیا تبدیلی اپنے اندر پیدا کر سکتا ہے۔ ہاں اگر وہ خیال کرتا ہے کہ میں کوئی نئی جنس ہو گیا ہوں ، نئی مخلوق بن گیا ہوں ، خدا تعالیٰ کی آواز بن گیا ہوں تو دیکھو اللہ تعالیٰ اسے کتنی ہمت، قوت اور حوصلہ عطا کر دیتا ہے۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ آئندہ قادیان کے لوگ خصوصاً اپنی سستی کو دور کر کے