خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 192

خطبات محمود ۱۹۲ سال ۱۹۳۹ ء چنانچہ جب وہ حالت جاتی رہی تو میں نے دیکھا کہ پیاس کا نام ونشان بھی نہ باقی رہا تھا ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس طریق سے میری پیاس بجھا دی اور جب پیاس بجھ جائے تو پانی پینے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی ۔ غرض تو یہ ہوتی ہے کہ ضرورت پوری کر دی جائے خواہ مناسب سامان مہیا کر کے ہو خواہ اس سے استغناء کی حالت پیدا کر کے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک شخص نے لکھا کہ دُعا کریں فلاں عورت کے ساتھ میرا نکاح ہو جائے ۔ آپ نے فرمایا کہ ہم دُعا کریں گے مگر نکاح کی کوئی شرط نہیں ، خواہ نکاح ہو جائے خواہ اُس سے نفرت پیدا ہو جائے ۔ آپ نے دُعا کی اور چند روز بعد اُس نے لکھا کہ میرے دل میں اُس سے نفرت پیدا ہو گئی ہے ۔ اسی طرح مجھے بھی ایک شخص نے ایسا لکھا تھا اور میں نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سنت میں اُسے یہی جواب دیا اور اُس نے مجھے بعد میں اطلاع دی کہ اُس کے دل سے اُس کا خیال جاتا رہا۔ پس اللہ تعالیٰ دونوں صورتوں میں مدد کر دیتا ہے۔ پس اپنے اندر ایک پختہ عزم پیدا کر لو اور جھوٹے وعدوں سے بچو کہ یہ یا تو روحانی بڑھاپے اور یا پھر بچپن کی علامت ہوتے ہیں۔ روحانی جوانی کے وقت انسان کے اندر انکسار، فروتنی، تو کل اور معرفت پیدا ہوتی ہے اور وہ کبھی منہ سے ایسی بات نہیں نکالتا جسے پورا کرنے کا اُس کے دل میں عزم نہ ہو اور جب وہ کوئی بات کر دیتا ہے تو ایسی پختہ کرتا ہے کہ چاہے ( الفضل ۱۵ را پریل ۱۹۳۹ء ) ہمالیہ پہاڑ اُڑ جائے مگر اُس کی بات نہیں بدلتی ۔“ 66 ا سیرت ابن هشام جلد ۴ صفحه ۸۴، ۸۵ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء الفاتحه : بخاری کتاب المغازى باب حدیث کعب بن مالک بخارى كتاب الصلح باب الصُّلْحُ فِي الدِّيَّةِ