خطبات محمود (جلد 20) — Page 191
خطبات محمود ۱۹۱ سال ۱۹۳۹ء پیروی کر رہا تھا جوش میں آ گیا اور کہنے لگا خدا کی قسم میری پھوپھی کا دانت نہیں تو ڑا جائے گا۔اس کے منہ سے یہ الفاظ ایسے جوش ، یقین اور توکل کے ساتھ نکلے کہ دوسرے فریق کے دل میں گھر کر گئے۔وہ کانپ گئے اور کہا یا رَسُول اللہ ! ہم معاف کرتے ہیں۔یہ الفاظ کہنے والا غریب آدمی تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کے بال بکھرے ہوئے ہوتے ہیں، کپڑے پھٹے ہوتے ہیں، جسم گرد آلود ہوتا ہے مگر جب وہ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کوئی بات کہہ دیں تو خدا تعالیٰ اسے ضرور پورا کر دیتا ہے کے تو دیکھو یہ کتنا بڑا تصرف ہے کہ جو بات وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے ماننے پر آمادہ نہ ہوئے وہ اُس کے منہ سے یہ الفاظ نکلنے پر کہ خدا کی قسم میری پھوپھی کا دانت نہیں تو ڑا جائے گا مان گئے۔نہ معلوم یہ الفاظ کس تو کل اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی بنا پر اور یقین کے ساتھ کہے گئے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کی غیرت بھی جوش میں آگئی اور اُس نے کہا کہ جب میرے بندے نے میری قسم کھا کر کہا ہے کہ میری پھوپھی کا دانت نہیں تو ڑا جائے گا تو میں بھی یہی کہتا ہوں کہ نہیں تو ڑا جائے گا کی اور جب خدا تعالیٰ کوئی بات کہے تو کس کی طاقت ہے کہ انکار کرے۔اس لئے دوسرے فریق نے بھی کہہ دیا کہ میں نے معاف کیا۔تو مومن کی نیت بہت بڑی چیز ہے۔پس اگر تم مومن ہو تو کی ایک پختہ عزم اور ارادہ اپنے اندر پیدا کرو پھر دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا فضل نازل ہوگا کہ تمام مشکلات خود بخود دُور ہو جائیں گی۔تمہارے ارادوں کو پورا کرنے کے لئے یا تو وہ نئے سامان پیدا کر دے گا یا پھر تمہارے حوصلے بڑھا دے گا اور تمہارا مقصد دونوں طرح حل ہو جائے گا۔ایک بھو کے شخص کی تکلیف دور کرنے کے دو ہی علاج ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ اُس کی بھوک اُڑا دی جائے اور دوسرے یہ کہ اُسے کھانا دے دیا جائے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا آخری سال تھا یا آپ کے بعد خلافت اولیٰ کا کوئی رمضان تھا۔بہر حال موسم کی گرمی کے سبب یا اس لئے کہ میں سحری کے وقت پانی نہ پی سکا تھا مجھے ایک روزہ کی میں شدید پیاس محسوس ہوئی تھی کہ مجھے خوف ہوا کہ میں بے ہوش ہو جاؤں گا اور دن غروب ہونے میں ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا۔میں نڈھال ہو کر ایک چار پائی پر گر پڑا اور میں نے کشف میں دیکھا کہ کسی نے میرے منہ میں پان ڈالا ہے۔میں نے اُسے چوسا تو سب پیاس جاتی رہی۔