خطبات محمود (جلد 20) — Page 19
خطبات محمود ۱۹ سال ۱۹۳۹ء جماعت کے دماغوں میں امن کا غلط خیال پیدا کر دیا ہے اور جماعت کی مثال اُس کبوتر کی سی تی ہے جس پر جب بلی حملہ کرتی ہے تو وہ آنکھیں بند کر لیتا اور خیال کر لیتا ہے کہ اب بلی مجھے دیکھ نہیں سکتی اور وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ایک چھوٹے سے قصبہ میں ان کی اکثریت ہونے سے حقیقی امن قائم نہیں ہو سکتا اور اگر ہو بھی جائے تو سوال یہ ہے کہ کیا انہوں نے احمدیت اپنے امن کے لئے اختیار کی ہے؟ جس کی جد و جہد اپنے نفس کے لئے امن پرختم ہو جاتی ہے اس نے احمدیت کو نفس کے لئے ہی اختیار کیا ہے اگر دین کے لئے اختیار کیا ہوتا تو اپنے نفس کے لئے آرام حاصل کی کرنے پر اس کی جدو جہد ختم نہ ہو جاتی۔ہمارا امن تو دین کے لئے امن پر منحصر ہے۔اگر دین کے لئے امن نہیں تو ہمارے امن کے کیا معنی؟ اگر دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے امن نہیں تو قادیان میں اگر ہم طاقتور بھی ہوں یہاں کوئی بھی فتنہ کرنے والا آدمی باقی نہ رہے، احراری فتنے بھی مٹ جائیں تو کیا فائدہ؟ اس کے معنی زیادہ سے زیادہ یہ ہوں گے کہ ہمیں نجات حاصل ہو گئی مگر یہ نجات تو غیر احمدی ہونے کی صورت میں ہمیں پہلے ہی حاصل تھی۔کی یہ سب فتنے تو پیدا ہی اس لئے ہوئے تھے کہ ہم نے احمدیت کو قبول کیا تھا اور ہم نے تو احمدیت اس لئے قبول کی تھی کہ چاہے ہمارے لئے فتنہ پیدا ہومگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے امن حاصل ہو جائے۔پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ساری دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے امن قائم ہو جائے۔کم سے کم شروع میں ایسا ایک علاقہ ہی ہو جہاں آپ کی تعلیم کو زندہ کر کے جاری کیا جا سکے۔ہمارا مقصد یہ ہے کہ تمام بنی نوع انسان کو آپ کے جھنڈے تلے لے آئیں اور اگر ہم کسی وقت اس لئے کوشش کرنا چھوڑ دیتے ہیں کہ جس علاقہ میں ہم رہتے ہیں اس میں امن قائم ہو گیا ہے تو یہ ہمارے ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔جہاں دوسری اکثر کی اچھی باتوں میں قادیان کے لوگ اچھا نمونہ دکھانے کے عادی ہیں، یہاں کے احمدیوں کی کی اکثریت چنده با قاعدہ ادا کرتی ہے، دین سیکھنے کی طرف بھی وہ زیادہ توجہ کرتے ہیں اور وعظ وغیرہ شوق سے سنتے ہیں اسی طرح اور کئی خوبیاں ان میں ہیں وہاں مجھے سخت افسوس ہے کہ تبلیغ کے معاملہ میں وہ دوسروں سے بہت پیچھے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ چند کارکنوں کو چھوڑ کر اس نیکی کے خانوں میں باقی لوگوں کے لئے صفر لکھا ہوا ہے۔اگر قادیان کے لوگ اپنی