خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 177

خطبات محمود 122 11 سال ۱۹۳۹ء مومن کو ہمیشہ جھوٹے وعدوں سے بچنا چاہئے کہ یہ قوم کی تباہی کا موجب ہوتے ہیں ( فرموده ۱٫۷ پریل ۱۹۳۹ء) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- جسمانی نشو ونما اور روحانی نشو و نما میں ایک عجیب فرق نظر آتا ہے جس کی طرف بہت ہی کم لوگوں نے توجہ کی ہے اور وہ یہ ہے کہ جسمانی نشو و نما کی ابتدا میں انسان کا ذہن زیادہ تر اپنی طاقت اور قوت کی طرف جاتا ہے اور جوں جوں انسانی جسم میں طاقت اور قوت پیدا ہوتی ہے اور وہ ہوش سنبھالتا ہے اُس کی نظر نہایت ہی محدود ہوتی چلی جاتی ہے یا محدود ہوتی ہے اور وہ اپنی طاقتوں اور قوتوں پر ایسا گھمنڈ رکھتا ہے کہ خیال کرتا ہے دُنیا کا ہر کام میری ہی مرضی اور منشاء کے ماتحت ہوتا ہے۔پھر جب انسانی جسم کی نشو و نما کا وقت ختم ہونے کو ہوتا ہے۔اضمحلال اور کمزوری پیدا ہونے لگتی ہے اس کی نظر اپنے سوا دوسری چیزوں پر بھی پڑنے لگتی ہے۔اس کے دماغ میں ایک تبدیلی پیدا ہوتی ہے جسے لوگ تجربہ کہتے ہیں اس تجربہ کے ماتحت آہستہ آہستہ اسے دوسری قوتوں اور طاقتوں کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔وہ سمجھتا ہے دُنیا میں تغیرات صرف میرے یا میرے دوستوں کے ذریعہ ہی نہیں ہو ر ہے بلکہ اس کے اسباب اور بھی ہیں جو بعض دفعہ نظر بھی نہیں آتے مگر دُنیا کے تغیرات پر اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں اور آخر جب آہستہ آہستہ