خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 176

خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء آج نو جوانوں کی ٹریننگ اور ان کی تربیت کا زمانہ ہے اور ٹرینگ کا زمانہ خاموشی کا زمانہ ہوتا ہے۔لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ کچھ نہیں ہو رہا مگر جب قوم تربیت پا کر عمل کے میدان میں نکل کھڑی ہوتی ہے تو دنیا انجام دیکھنے لگ جاتی ہے۔در حقیقت ایک ایسی زندہ قوم جو ایک ہاتھ کے اُٹھنے پر اُٹھے اور ایک ہاتھ کے گرنے پر بیٹھ جائے دُنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا کرتی ہے اور یہ چیز ہماری جماعت میں ابھی پیدا نہیں ہوئی۔ہماری جماعت میں قربانیوں کا مادہ بہت کچھ ہے مگر ابھی یہ جذ بہ اُن کے اندر اپنے کمال کو نہیں پہنچا کہ جونہی ان کے کانوں میں خلیفہ وقت کی طرف سے کوئی آواز آئے اُس وقت جماعت کو یہ محسوس نہ ہو کہ کوئی انسان بول رہا ہے بلکہ یوں محسوس ہو کہ فرشتوں نے ان کو اُٹھالیا ہے اور صور اسرافیل اُن کے سامنے پھونکا جا رہا ہے۔جب آواز آئے کہ بیٹھو تو اُس وقت انہیں یہ معلوم نہ ہو کہ کوئی انسان بول رہا ہے بلکہ یوں محسوس ہو کہ فرشتوں کا کی تصرف ان پر ہو رہا ہے اور وہ ایسی سواریاں ہیں جن پر فرشتے سوار ہیں۔جب وہ کہے بیٹھ جاؤ تو سب بیٹھ جائیں ، جب کہے کھڑے ہو جاؤ تو سب کھڑے ہو جائیں۔جس دن یہ روح ہماری جماعت میں پیدا ہو جائے گی اُس دن جس طرح باز چڑیا پر حملہ کرتا اور اُسے توڑ مروڑ کر رکھ دیتا ہے اسی طرح احمدیت اپنے شکار پر گرے گی اور تمام دنیا کے ممالک چڑیا کی طرح اس کے پنجہ میں آجائیں گے اور دُنیا میں اسلام کا پرچم پھر نئے سرے سے لہرانے لگ جائے گا۔‘ ( الفضل ۷ ا پریل ۱۹۳۹ ء ) ل اسد الغابة جلد ا صفحه ۱۲۸ مطبوعہ ریاض ۱۳۸۴ھ بخارى كتاب الدعوات باب الله مائة اسم البقرة :٣٠ مصنف ابن ابي شيبة كتاب الصلوة باب فى الرجل يوتِرُ ثم يقوم بعد ذلک۔کے مطابق روایات سے حضرت عثمانؓ ، حضرت عبداللہ بن عمررؓ اور حضرت سعد بن مالک کے متعلق ثابت ہے کہ وہ اسی طرح کیا کرتے تھے۔ه السنن الكبرى بيهقى كتاب الصلوة باب في الركعتين بعد الوتر۔