خطبات محمود (جلد 20) — Page 175
خطبات محمود ۱۷۵ سال ۱۹۳۹ء ڈھانک لیا ہے اور ایک نئی سکیم، ایک دُنیا میں تغیر پیدا کر دینے والی سکیم میرے دل میں نازل کر دی اور میں دیکھتا ہوں کہ میری تحریک جدید کے اعلان سے پہلے کی زندگی اور بعد کی زندگی کی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔قرآنی سکتے مجھ پر پہلے بھی کھلتے تھے اور اب بھی کھلتے ہیں مگر پہلے کوئی معین سکیم میرے سامنے نہیں تھی جس کے قدم قدم کے نتیجہ سے میں واقف ہوں اور میں کہہ سکوں کہ اِس اِس رنگ میں ہماری جماعت ترقی کرے گی مگر اب میری حالت ایسی ہی ہے کہ جس طرح انجینئر ایک عمارت بناتا اور اسے یہ علم ہوتا ہے کہ یہ عمارت کب ختم ہوگی ، اس میں کہاں کہاں طاقچے رکھے جائیں گے؟ کتنی کھڑکیاں ہوں گی ، کتنے دروازے ہوں گے؟ کتنی اونچائی پر چھت پڑے گی؟ اسی طرح دنیا کی اسلامی فتح کی منزلیں اپنی بہت سی تفاصیل اور مشکلات کے ساتھ میرے سامنے ہیں۔دُشمنوں کی بہت سی تدبیریں میرے سامنے بے نقاب ہیں۔اس کی کوششوں کا مجھے علم ہے اور یہ تمام امور ایک وسیع تفصیل کے ساتھ میرے آنکھوں کے سامنے موجود ہیں۔تب میں نے سمجھا کہ یہ واقعہ اور فساد خدا تعالیٰ کی خاص حکمت نے کھڑا کیا تھا تا وہ ہماری نظروں کو کی اُس عظیم الشان مقصد کی طرف پھرا دے جس کے لئے اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا۔پس پہلے میں صرف ان باتوں پر ایمان رکھتا تھا مگر اب میں صرف ایمان ہی نہیں رکھتا بلکہ میں تمام باتوں کو دیکھ رہا ہوں۔میں دیکھ رہا ہوں کہ سلسلہ کو کس رنگ میں نقصان پہنچایا جائے گا ؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ سلسلہ پر کیا کیا حملہ کیا جائے گا؟ اور میں دیکھ رہا ہوں کہ ہماری طرف سے ان حملوں کا کیا جواب دیا جائے گا۔ایک ایک چیز کا اجمالی علم میرے ذہن میں موجود ہے اور اسی کا ایک حصہ خدام الاحمدیہ ہیں اور درحقیقت یہ روحانی ٹریننگ اور روحانی تعلیم و تربیت ہے اُس فوج کی جس فوج نے احمدیت کے دُشمنوں سے مقابلہ میں جنگ کرنی ہے، جس نے احمدیت کے جھنڈے کو فتح اور کامیابی کے ساتھ دشمن کے مقام پر گاڑنا ہے۔بے شک وہ لوگ جوان باتوں سے واقف نہیں وہ میری ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتے کیونکہ ہر شخص قبل از وقت ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتا۔یہ اللہ تعالیٰ کی دین ہے جو وہ اپنے کسی بندے کو دیتا ہے۔میں خود بھی اس وقت تک ان باتوں کو کی نہیں سمجھا تھا جب تک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ان امور کا انکشاف نہ کیا۔پس تم ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتے اور بیشک تم کہہ سکتے ہو کہ ہمیں تو کوئی بات نظر نہیں آتی لیکن مجھے تمام باتیں نظر آ رہی ہیں۔