خطبات محمود (جلد 20) — Page 172
خطبات محمود ۱۷۲ سال ۱۹۳۹ء جواب سمجھایا اور وہ یہ کہ دن کی نمازوں کی رکعات ہیں آٹھ اور رات کی فرض نمازوں کی رکعات ہیں تو۔چنانچہ دیکھ لو! مغرب کی تین ، عشاء کی چار اور فجر کی دو گل ۹ رکعت بنتی ہیں۔چونکہ مغرب کی نماز سورج ڈوبنے کے بعد پڑھی جاتی ہے اور فجر کی نماز سورج نکلنے سے پہلے پڑھی جاتی ہے اس لئے یہ دونوں نمازیں بھی دراصل رات کی ہی نمازیں ہیں اور ان نمازوں کی ایک رکعت زیادہ کرنے میں ایک حکمت یہ ہے کہ انسان کو تکلیفوں اور مصیبتوں کے وقت میں اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ جھکنا چاہئے تا کہ وہ اس کے فضلوں کو جذب کر سکے۔اسی لئے دن کے وقت اللہ تعالیٰ نے آٹھ رکعات نماز کی رکھیں اور رات کے وقت کو۔باقی رہا مقام کا سوال کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ایک رکعت کی زیادتی مغرب میں کیوں کی ہے؟ کسی اور نماز میں کیوں نہیں کر دی ؟ تو اس کا جواب بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھایا اور وہ یہ کہ صبح کے وقت اللہ تعالیٰ کے فرشتے خاص طور پر نازل ہوتے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو بندوں کی تلاوت قرآن کی خبر دیتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جب انسان سو کر اُٹھتا ہے تو اُس وقت اُس کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے اور نئے دور کے ابتداء کے وقت ضروری ہوتا ہے کہ انسان اپنے اندر بلند ارادے پیدا کرے اور کہے کہ میں یوں کروں گا ، ہمیں ووں کروں گا اور یہ تمام باتیں چونکہ قرآن کریم میں موجود ہیں اس لئے جب سو کر اٹھنے کے بعد انسان کی زندگی کا نیا دور شروع ہوتا ہے اُسے اس کے روحانی پروگرام کی طرف توجہ دلانے کے لئے اسلام نے اس وقت قرآن کریم کی لمبی تلاوت کی مقرر کر دی اور حکم دیا کہ فجر کی نماز میں قرآن کریم کی لمبی تلاوت کی جائے اور چونکہ خدا تعالیٰ کا معاملہ احکام میں ٹیسر کا ہے عسر کا نہیں اس لئے فجر کی نماز اس نے باقی تمام نمازوں سے چھوٹی کر دی تا کہ لمبی تلاوت کی جاسکے۔پس فجر کی نماز کو تو اس نے چھوٹا کیا لیکن تلاوت قرآن کولمبا کر دیا۔کیونکہ اس وقت اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ قرآن کریم کے مضامین بار بار سامنے آئیں۔پس فجر کی نماز کو چھوٹا کرنا ضروری تھا تا تلاوت کو لمبا کیا جا سکے۔یہ نماز در حقیقت عصر کی نماز کے مقابل پر ہے اور ظاہر میں اس کے عدد کو عصر کے ساتھ اس طرح بھی کی مشابہت ہو جاتی ہے کہ عصر کے ساتھ کوئی سنت مؤکدہ نہیں ہیں اور صبح کے ساتھ دوسنتیں ایسی ہیں جو عام مؤکدہ ہیں۔اس طرح صبح کی رکعتیں بھی چار ہو جاتی ہیں اور عصر کی بھی چار ہوتی ہیں۔کی