خطبات محمود (جلد 20) — Page 171
خطبات محمود ۱۷۱ سال ۱۹۳۹ ء وہ طاق ہوں گے چنانچہ یہ حکمت ہمیں ہر جگہ نظر آتی ہے مگر یہ ایک الگ اور وسیع مضمون ہے جس کو اس وقت بیان نہیں کیا جا سکتا ۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ تمام قانونِ قدرت میں اللہ تعالیٰ نے طاق کو قائم رکھا ہے اور اس کے ہر قانون پر طاق حاوی ہے ۔ قرآن کریم کے محاوروں اور سول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محاوروں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سات کے عدد کو تکمیل کے ساتھ خاص طور پر تعلق ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دُنیا کو سات دن میں بنایا۔ اسی طرح انسان کی روحانی ترقیات کے سات زمانے ہیں ۔ پھر آسمانوں کے لئے بھی قرآن کریم میں سَبْعَ سَموات سے کے الفاظ آتے ہیں اور یہ طاق کا عدد ہے۔ تو طاق کا عدد اللہ تعالیٰ کے حضور خاص حکمت رکھتا ہے اور اس کا مظاہرہ ہم تمام قانون قدرت میں دیکھتے ہیں ۔ اب اس قانون کے مطابق اگر فرض نمازوں کی رکعات کو جمع کرو تو وہ طاق ہی بنتی ہیں ۔ چنانچہ ظہر کی چار ، عصر کی چار ، مغرب کی تین ، عشاء کی چار اور فجر کی دو گل ۱۷ رکعات ہوتی ہیں اور اس طرح فرض نماز کی رکعتوں میں بھی اللہ تعالی نے طاق کی نسبت کو قائم رکھا ہے ۔ پس چونکہ اللہ تعالیٰ کے تمام کاموں میں طاق مد نظر رکھا گیا ہے اس لئے پانچ نمازوں میں سے ایک فرض نماز کی رکعتیں تین کر دی گئیں تا کہ طاق کے متعلق اللہ تعالیٰ کا جو قانون ہے وہ نمازوں میں بھی آجائے ۔ اسی طرح وتروں کی نماز کو طاق اس لئے بنایا گیا ہے کہ نوافل بھی طاق ہو جائیں اور اسی وجہ سے وتروں کو معمولی سنتوں سے زیادہ وقعت دے دی گئی ہے تا کہ مسلمان انہیں ضرور ادا کرے اور اس کے نوافل طاق ہو جایا کریں اور یہی وجہ ہے کہ وتروں کے سوا اور کوئی نفل طاق نہیں ہوتا ۔ تا دو طاق مل کر جفت نہ ہو جائیں اور یہی حکمت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر کبھی عشاء کے وقت وتر پڑھ لیتے تو تہجد کے وقت ایک رکعت پڑھ کر انہیں جفت کر دیتے ہے تاکہ تہجد کے آخر میں آپ وتر پڑھ سکیں اور ! ان کے ڑھنے سے نوافل جفت نہ ہو جائیں ۔ اب اس پر سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ مغرب کی نماز کی ہی تین رکعتیں کیوں مقرر کی گئی ہیں؟ کسی اور نماز کی تین رکعتیں کیوں مقرر نہیں کر دی گئیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سوال کا بھی