خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 152

خطبات محمود ۱۵۲ سال ۱۹۳۹ ء ضروری ہوتا کہ ہمیں کہانیاں سنا کر چپ کرایا جاتا اور یہی وجہ تھی کہ رات کے وقت ہماری دلچسپی کو قائم رکھنے کے لئے آپ بھی جب فارغ ہوں کہانیاں سُنایا کرتے تھے ۔ تاہم سو جا تھے۔ جائیں اور آپ کام کر سکیں ۔ بچہ کو کیا پتہ ہوتا ہے کہ اس کے ماں باپ کتنا بڑا کام کر رہے ہیں ۔ اُسے تو اگر دلچسپی کا سامان مہیا نہ کیا جائے تو وہ شور کرتا ہے اور کہانی سُنانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بچے سو جاتے ہیں اور ماں باپ محمدگی سے کام کر سکتے ہیں اور کہانیوں کی یہ ضرورت ایسی ہے جسے سب نے تسلیم کیا ہے گو وہ عارضی ضرورت ہوتی ہے اُس وقت اس کا فائدہ صرف اتنا ہوتا ہے کہ بچہ کو ایسی دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ محو ہو کر سو جاتا ہے ۔ ماں باپ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہمارا وقت ضائع نہ ہو اس لئے وہ اُسے لٹا کر کہانیاں سناتے ہیں یا اُن میں سے ایک اسے سلاتا ہے اور دوسرا کام میں لگا رہتا ہے یا پھر ایک سناتا ہے اور باقی خاندان آرام سے کام کرتا ہے اگر اس وقت فضول اور لغو کہانیاں بھی سُنائی جائیں تو یہ مقصد حاصل ہو۔ جاتا ہے ہے مگر ہم اس پر خوش نہیں ہوتے بلکہ چاہتے ہیں کہ ایسی کہانیاں اُسے سنائیں کہ اُس وقت بھی فائدہ ہو یعنی ہمارا وقت بچ جائے اور پھر وہ آئندہ عمر میں بھی اُسے فائدہ پہنچائیں اور جب کہانیوں کے متعلق یہ کوشش کرتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ کھیل کے معاملہ میں بچوں کو یونہی چھوڑ دیں کہ جس طرح چاہیں کھیلیں ۔ اگر یہ طریق کھیلوں کے متعلق درست ہے تو کہانیوں کے متعلق کیوں اسے اختیار نہیں کیا جاتا اور کیوں نہیں بچوں کو چھوڑ دیا جاتا کہ جیسی بھی کہانیاں ہوں سُن لیں ۔ جب کہانیوں کے متعلق ہمارا یہ نظر یہ ہے کہ وہ ایسی ہوں جو اُسے سُلا بھی دیں اور محمدہ باتیں بھی سکھائیں تو کھیلوں کے متعلق یہی نظریہ کیوں پیش نظر نہ رکھا جائے کیوں نہ بچوں کو ایسی کھیلیں کھلائی جائیں جن سے اُن کا جسم بھی مضبوط ہو، ذہن بھی ترقی کرے اور پھر وہ آئندہ زندگی کے لئے سبق آموز بھی ہوں ۔ مثلاً میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی بتایا تھا کہ تیرنا ہے یہ کھیل کی کھیل ہے اس میں مقابلے کرائے جائیں تو بہت دلچسپی پیدا ہو سکتی ہے، غوطہ زنی میں لوگ مقابلے کرتے ہیں اور ایسی دلچسپی پیدا ہوتی ہے کہ مقابلہ کرنے والے اس وقت یہی سمجھتے ہیں کہ گویا زندگی کا مقصد یہی ہے۔ بچوں کے لئے تیرنا بھی ایسی ہی دلچسپی کا موجب ہو سکتا ہے جیسا فٹ بال، کرکٹ یا ہا کی وغیرہ اور پھر یہ ان کے لئے آئندہ زندگی میں مفید بھی ہو سکتا ہے۔ کبھی کشتی میں ہے۔