خطبات محمود (جلد 20) — Page 145
خطبات محمود الده سال ۱۹۳۹ ء پڑھتا ہے تو ہمیں کوئی اور ایسا کام اس کے سپرد کرنے کی کیا ضرورت ہے جو استقلال پیدا کرنے والا ہو مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ تم اس کی نمازوں کی نگرانی نہیں کر سکتے لیکن جو کام تم اس کے سپرد کرو گے اُس کی نگرانی تم ضرور کرو گے ۔ پھر ممکن ہے وہ نمازیں پڑھتا ہی نہ ہو یا پانچ میں سے تین نمازیں پڑھتا ہو اور دو چھوڑ دیتا ہو یا چار پڑھتا ہو اور ایک چھوڑ دیتا ہو یا مہینہ میں سے کوئی ایک نماز چھوڑ دیتا ہو تو اس بات کا تمہیں پتہ نہیں لگ سکتا کہ وہ نمازوں میں باقاعدہ ہے یا نہیں کیونکہ وہ ذاتی عبادت ہے اور ذاتی عبادت کی دوسرا شخص مکمل نگرانی نہیں کر سکتا لیکن وہ حکم جو تم خود دوسرے کو دو گے اُس کی نگرانی بھی کرو گے اور اس طرح اس کے اندر استقلال کا مادہ پیدا ہوتا چلا جائے گا۔ میں اس کے لئے بھی مناسب قواعد تجویز کر کے خدام الاحمدیہ کی مدد کرنے کے لئے تیار ہوں ۔ انہیں چاہئے کہ وہ ان تمام باتوں کو جو خطبات میں میں نے بیان کی ہیں بار بار لیکچروں کے ذریعہ خدام الاحمدیہ کے سامنے دُہراتے رہیں ۔ کبھی دیکھا کہ کوئی شخص استقلال اپنے اندر نہیں رکھتا تو اس کو استقلال پر لیکچر دینے کے لئے کہہ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کے نفس میں شرمندگی پیدا ہو گی اور وہ آئندہ کے لئے اس نقص کو دور کرنے کی کوشش کرے گا یا دوسرے لوگ جن کی زبانوں میں اللہ تعالیٰ نے تاثیر رکھی ہے ان سے لیکچر دلائے جائیں ۔ پس لیکچروں کے ذریعہ سے ، حاضری لگانے کے ذریعہ سے ، اپنی سوسائٹی میں بار بار ایسے ریزولیوشنز پاس کرنے کے ذریعہ سے نگرانی کے ذریعہ اور ایسے کام دینے کے ذریعہ سے جن کو روزانہ با قاعدگی کے ساتھ کرنا پڑے نوجوانوں کے اندر استقلال کا مادہ پیدا کیا جاسکتا ہے اور میں خدام الاحمدیہ کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں ۔ میں باوجود اس کے کہ کئی خطبات پڑھ چکا ہوں ابھی تک وہ باتیں ختم نہیں ہوئیں جو خدام الاحمدیہ کے میں ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں ۔ اب تک میں سات فرائض کی طرف خدام الاحمدیہ کو توجہ دلا چکا ہوں اور دو باتیں ابھی رہتی ہیں انہیں اِنْشَاءَ الله تَعَالَی اگلے جمعہ میں بیان کروں گا ۔ اب میں خدام الاحمد یہ سے صرف اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ باتیں تو بہت کچھ بیان ہو چکی ہیں اب انہیں کوئی عملی قدم بھی اُٹھانا چاہئے ۔ میرا خیال تھا کہ میں جلدی ہی تمام باتیں بیان کرلوں گا مگر خطبے بہت لمبے ہو ۔ تھا ہئے ۔ میرا خیال گئے ہیں ۔ ان خطبوں کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ بعض دفعہ پچھلی باتیں انسان بھول جاتا ہے اور