خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 134

خطبات محمود ۱۳۴ سال ۱۹۳۹ ء نہیں دیتے یا زکوۃ میں تو چست ہو مگر صدقہ خیرات دینے میں سُست ہو یا صدقہ وخیرات دینے میں تو اس قدر پست ہو کہ اپنا سارا مال خدا تعالیٰ کی راہ میں غریبوں اور مسکینوں کو دے دیتے ہو لیکن جھوٹ بول لیتے ہو تو تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جو صرف ایک طرف دیوار کھڑی کر کے اِس سے پورے مکان کا فائدہ اُٹھانا چاہتا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں اگر تم تھوڑا سا مال مقابلہ میں اگر تم تھوڑا سا ما ں اسا ما صدقہ و خیرات کر دیتے ہو اور زیادہ صدقہ نہیں کرتے ، نمازیں صرف پانچ وقت کی پڑھتے ہو، نوافل اور تہجد ادا نہیں کرتے ، رمضان کے صرف تمیں روزے رکھتے ہو لیکن نفلی روزوں کے رکھنے کا خیال نہیں کرتے ، صدقہ وخیرات میں بھی کچھ ایسے دلیر نہیں لیکن تھوڑا بہت دے دیتے ہو یا کم سے کم اگر زکوۃ تم پر فرض ہو تو تم اس کی ادائیگی میں تساہل سے کام نہیں لیتے تو تم یقیناً اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر لو گے کیونکہ گوتم نے محل تیار نہیں کیا مگر تم نے سرکنڈوں کی دیواریں بنا کر ایک چھت ڈال لی ہے اور اس وجہ سے تم اس بات کے مستحق ہو گئے ہو کہ تم مکان کا فائدہ حاصل کر لو ۔ یہی وہ چیز ہے جس کو ذہانت کہتے ہیں یعنی اپنے علم کو ایسے طرز پر کام میں لانا اور اس سے فائدہ اُٹھانا کہ انسان کی چاروں طرف نگاہ رہے اور کوئی گوشہ اس کی نگاہ سے پوشیدہ نہ رہے اسی ذہانت کا یہ کرشمہ ہے کہ جب کسی ذہین آدمی سے بات کی جائے تو وہ فوراً سمجھ جاتا ہے کہ یہ بات مجھ سے کیوں کہی جا رہی ہے؟ کہنے والے کا مقصد کیا ہے؟ کن حالات میں یہ مجھ سے بات کر رہا ہے؟ اس میں کہنے والے کا کیا فائدہ ہے اور میرا اِس میں کوئی فائدہ ہے یا نقصان؟ اور کیوں میرے ساتھ بات کی جارہی ہے؟ اس کا کیا مقصد اور کیا مدعا ہے؟ مگر دوسرا آدمی بیوقوفی کر کے کچھ کا کچھ نتیجہ نکال لیتا ہے۔ پس ذہین وہ شخص ہے جو چاروں گوشوں پر نگاہ رکھے مگر وہ جو صرف علم کی حد تک محدود رہتا ہے اور بات کی تہہ تک نہیں پہنچتا اُسے ہم ذ ہم ذہین نہیں کہہ سکتے ۔ جیسا کہ میں نے اپنے بعض سفروں کا حال بیان کیا ہے اب اگر میرے ساتھ سفر کرنے والے ذہین ہوتے تو وہ کہتے کہ ہمیں کوئی ایسا پہلو اختیار نہیں کرنا چاہئے جو بعد میں کسی خِفّت اور بدنامی کا موجب ہو اور انہیں سوچنا چاہئے تھا کہ جب سفروں میں چیزوں کے گم ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے تو وہ ایسا طریق اختیار کریں جس سے کسی قسم کی غلطی نہ ہو ۔ انگریزوں نے اسی ذہانت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ریکارڈ اور سٹیٹسٹکس کا طریق