خطبات محمود (جلد 20) — Page 131
خطبات محمود ۱۳۱ سال ۱۹۳۹ ء مجھ پر ظاہر ہوئی ہے اُس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہایت سادگی کے ساتھ صرف دولفظوں میں توجہ دلا دی تھی کیونکہ جب ہم نے ایک انجمن بنانے کا ارادہ کیا تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کیا کہ اس کا کوئی نام تجویز فرمائیں تو آپ نے اس انجمن کا نام تشحیذ الا ذہان تجویز فرمایا یعنی ذہنوں کو تیز کرنا۔ رسالہ تشحید الا ذہان بعد میں اسی وجہ سے اس نام پر جاری ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے انجمن کا نام ” تشحیذ الا ذہان“ رکھا تھا اور چونکہ اسی انجمن نے یہ رسالہ جاری کیا اس لئے اس کا نام بھی تشحیذ الا ذہان“ رکھ دیا گیا۔ پس ہماری انجمن کا نام ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تشحیذ الا ذہان“ رکھا تھا۔ یعنی وہ انجمن جس کے ممبران کا یہ فرض ہے کہ وہ ذہنوں کو تیز کریں اور در حقیقت بچپن میں ہی ذہن تیز ہو سکتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس لحاظ سے بہت بڑی ذمہ داری اُستادوں پر عائد ہوتی ہے مگر افسوس ہے کہ ہم اپنے بچوں کے بہت سے اوقات کتابوں میں ضائع کر دیتے ہیں اور وہ حقیقی فائدہ جس سے قوم ترقی کرتی ہے اس کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ حالانکہ ہمارا فرض ہے کہ ہماری کھیلیں اس رنگ کی ہوں جن سے ہمارے ذہن تیز ہوں، ہماری تعلیم اس رنگ کی ہو جس سے ہمارے ذہن تیز ہوں ، ہماری انجمنوں کے کام اس رنگ کے ہوں جن سے ہمارے ذہن تیز ہوں اور یہ ر یہ چیز علم سے بھی مقدم ہونی چاہئے کیونکہ تھوڑے علم سے انسان نجات پاسکتا ہے لیکن ذہن کے گند ہونے کی وجہ سے خواہ انسان کے پاس کتنا بڑا علم ہونجات سے محروم رہ جاتا ہے ۔ ۔ ہم یورپین قوموں کو دیکھتے ہیں ایک لمبے تجربہ کی وجہ سے اُن میں ذہانت کا نہایت بلند معیار قائم ہے حالانکہ وہ شراب نوش قو میں ہیں ، وہ سو ر کھاتی ہیں مگر باوجود شراب نوش اور مردار خوار ہونے کے اُن کے ذہن نہایت تیز ہوتے ہیں کیونکہ ایک وسیع تجربہ نے اُن کے دماغوں میں نہایت صفائی پیدا کر دی ہے ۔ پچھلے دنوں جب جنگ کا خطرہ پیدا ہوا تو انگریز مد برین نے ہر طرح کی کوشش کر کے اس جنگ کو رو کا مگر جیسا کہ بعد میں معلوم ہوا اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ لڑائی میں کودنا پسند نہیں کرتے تھے