خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 115

خطبات محمود ۱۱۵ سال ۱۹۳۹ ء اور جب کہا جاتا ہے کون غلیظ ہے؟ تو جواب ملتا ہے مسلمان ۔ مگر اس تجویز پر عمل کر کے ہر جگہ کے احمدی اس حالت کے برعکس نقشہ دکھا سکتے ہیں ۔ مگر افسوس ہے کہ ابھی یہاں بھی عمل شروع نہیں ہوا ۔ خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ لیں اور دوسروں کو سمجھائیں اور دوسروں کو عملاً کام کریں ۔ میں نے جو اعلان عملی کام کے متعلق کیا تھا مجھے معلوم ہوا ہے کہ خدام الاحمد یہ اِس سے غافل نہیں ہیں ۔ جو کام ان کے سپرد کیا گیا تھا اُس کے لئے انجینئروں کے مشورے کی ضرورت ہے جو لیا جا رہا ہے اور اس کے بعد کام شروع کر دیا جائے گا مگر ان کا صرف یہی کام نہیں بلکہ اور بھی کئی کام ہیں ۔ جب تک یہ شروع نہیں ہوتا وہ یہ دیکھیں کہ لوگ گلیوں میں گند نہ پھینکیں اور اگر کوئی پھینکے تو سب مل کر اُسے اُٹھائیں ۔ تھوڑی سی محنت سے صفائی کی حالت اچھی ہو سکتی ہے۔ گاؤں میں رہنے والے احمدیوں کو بھی صفائی کی طرف خاص توجہ چاہئے ۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہ صفائی کا خیال نہیں رکھتے ۔ میں نے دیکھا ہے بعض زمیندار عورتیں بیعت کے لئے آتی ہیں کسی کے بچہ نے فرش پر پاخانہ کر دیا تو اُس نے ہاتھ سے اُٹھا کر جھولی میں ڈال لیا اور سمجھ لیا کہ بس صفائی ہوگئی ۔ ان کے جانے کے بعد ہم اسے دھوتے ہیں لیکن وہ اپنی طرف سے سمجھ لیتی ہیں کہ بس صفائی ہو چکی ۔ یہ حالت میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اور ایک دفعہ نہیں بیسیوں دفعہ ۔ اب غور تو کر ومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو فرماتے ہیں کہ رستہ میں پاخانہ کرنے والے پر خدا کی لعنت ہوتی ہے۔ کیا وہ اِس نظارہ کو برداشت کر سکتے تھے۔ پھر یہی نہیں میں نے بعض زمیندار عورتوں کو اپنے دو پٹہ سے بچہ کی طہارت کرتے دیکھا ہے ۔ وہ یہ سمجھ لیتی ہیں کہ بس بچہ کی صفائی ہو گئی اور یہ خیال بھی نہیں کرتیں کہ بچہ کا پا خانہ اپنے سر پر رکھ رہی ہیں ۔ ہمارے ملک میں گندگی کا مفہوم ہی بالکل بدل گیا ہے اور یہ ہاتھ سے کام نہ کرنے کا ہی نتیجہ ہے۔ یہ سب گسل اور سستی ہے کہ کون اُٹھے اور کون دھوئے اور کون صفائی کرتا پھرے؟ میں نے خدام الاحمدیہ کو توجہ دلائی تھی کہ وہ اس کام کو خاص طور پر شروع کریں اور اب بھی جب تک وہ سکیم نہ بنے ہر محلہ کے ممبر ذمہ دار سمجھے جائیں اس محلہ کی صفائی کے۔ پہلے لوگوں کو کے پہلے منع کرو اور سمجھاؤ کہ گلی میں گندگی نہ پھینکیں اور اگر وہ پھر بھی باز نہ آئیں تو پھر خود جا کر اُٹھا ئیں ۔