خطبات محمود (جلد 20) — Page 85
خطبات محمود ۸۵ سال ۱۹۳۹ء تو اُنہوں نے بتایا کہ جاپانی تاجر عجیب قسم کی حرکت کرتے ہیں وہ پہلے اپنی ایک چیز کی ایک رقم معین کر کے اطلاع دے دیتے ہیں مثلاً وہ بوٹ بناتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ اس کی قیمت ایک روپیہ فی جوڑا ہے۔اب اتنا سستا بوٹ دیکھ کر بڑے بڑے تاجر اُنہیں آرڈر دے دیتے ہیں۔کوئی ایک لاکھ کا آرڈر دے دیتا ہے، کوئی دو لاکھ کا آرڈر دے دیتا ہے، کوئی تین لاکھ کا آرڈر دے دیتا ہے اور کوئی چار لاکھ کا آرڈر دے دیتا ہے۔ابھی وہ مال پہنچتا نہیں کہ اطلاع آ جاتی ہے اب اسی بوٹ کے بارہ آنے ہو گئے ہیں۔یہ دیکھ کر وہ تاجر جنہوں نے پہلی دفعہ مال نہیں منگوایا تھا کئی لاکھ کا آرڈر دے دیتے ہیں مگر اُن کا مال بھی ابھی اُن تک نہیں پہنچتا کہ اطلاع کی آ جاتی ہے اس بوٹ کی قیمت آٹھ آنے ہو گئی ہے اس قدرستا بوٹ دیکھ کر پھر اور لوگ انہیں آرڈر دے دیتے ہیں۔اب گو اس طرح ان کا مال زیادہ بک جاتا ہے مگر وہ پہلا تا جر جس نے پانچ لاکھ روپیہ کا مال منگوایا تھا اُس کو اڑھائی لاکھ کا نقصان ہو جاتا ہے اور اس طرح آئندہ کے لئے وہ جاپانی تاجروں سے مال منگوانے میں بہت زیادہ احتیاط سے کام لینے لگتا ہے۔گو چیزوں کی کے زیادہ ستا ہونے اور اُن کی زیادہ بکری ہو جانے کی وجہ سے جاپانی تاجروں کو ابھی یہ محسوس کی نہیں ہو ا کہ وہ ایک غلط راستہ پر چل رہے ہیں مگر انجام کا رایسی عادت مُفید ثابت نہیں ہوتی اور وہ نقصان پہنچا کر رہتی ہے۔گو جاپانی مال میں بد دیانتی نہیں کرتے مگر چونکہ وہ قیمتوں کو بڑھاتے گھٹاتے رہتے ہیں اس لئے گوا بھی اپنی چیزوں کو زیادہ ستا فروخت کرنے کی وجہ سے انہیں کی نقصان نہیں پہنچا مگر جب بھی برابر کی قیمت کا سوال آ جاتا ہے اُس وقت واقف تاجر انگریزی مال کو جاپانی مال پر ترجیح دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جاپانی ٹھگی کر لیتے ہیں مگر انگریز ٹھگی نہیں کی کرتے۔انگریزوں سے اُتر کر امریکہ اور جرمنی کے لوگ ہیں اور اُن سے اُتر کر اور ممالک کے لوگ۔مگر ہندوستانی تجارت میں اتنا خطرناک طور پر بدنام ہے کہ کوئی قوم اس پر اعتبار نہیں کرتی۔مکہ مکرمہ میں سب سے زیادہ حج کے لئے جانے والے ہندوستانی ہی ہوتے ہیں مگر جانتے ہو وہاں ہندوستانی کا کیا نام ہے؟ وہاں ہندوستانی کو بھال کہا جاتا ہے یعنی وہ سخت جھوٹا اور بد دیانت ہوتا ہے۔جب بھی کسی ہندوستانی کا ذکر ان کے سامنے آ جائے گا وہ کہیں گے ”ہندی بطال، یعنی ہندوستانی سخت جھوٹا اور دھو کے باز اور چور ہوتا ہے۔وہ جاوی پر اعتبار