خطبات محمود (جلد 20) — Page 603
خطبات محمود ۶۰۳ سال ۱۹۳۹ء ہو ہی نہیں سکتیں۔اس لئے آپ نے فرمایا کہ مسلمانو! تم خدا تعالیٰ سے ہمیشہ یہ دُعا مانگتے رہو۔اس دُعا نے اس سوال کو جو مجھ پر کیا گیا تھا بڑی اچھی طرح حل کر دیا ہے۔بیشک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابراہیمی کمالات حاصل ہوئے ، موسوی اور عیسوی کمالات حاصل ہوئے ، کرشنی کمالات حاصل ہوئے اور آپ تو الگ رہے آپ کے خادموں میں سے ایک خادم نے یہ کہا ہے کہ آنچه داد است هر نبی را جام داد آن جام را مرا بتمام یعنی ہر نبی کو جو پیالہ پلایا گیا ہے وہ مجھے بھی بھر کر پلایا گیا اور جب آپ کے خادموں کو وہ نعمتیں ملیں جو پہلے انبیاء کو دی گئیں اور نہ صرف معمولی طور پر بلکہ لب بہ لب بھرے ہوئے پیالہ کی صورت میں ملیں مگر باوجود اس کے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ خدا کے قرب کی راہیں اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ختم ہو گئیں۔کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جو جام ملا وہ بھرا ہوا تھا بیشک مرزا صاحب کو بھی وہی جام دیا گیا مگر وہ آدھا تھا۔حضرت عیسی علیہ السلام کو جو جام دیا گیا وہ بیشک حضرت مرزا صاحب کو بھی ملا مگر حضرت عیسی کو بھرا ہو املا اور مرزا صاحب کو صرف ایک چوتھائی اور اس سے آپ کا یہ شعر بھی صحیح ثابت ہو گیا۔مگر نہیں آپ نے فرمایا ہے کہ ؎ داد آن جام را مرا بتمام یہ تو ممکن ہے کہ عیسوی جام حضرت عیسی علیہ السلام کو کم ملا ہو مگر یہ نہیں کہ حضرت مرزا صاحب کو کم ملا ہو۔آپ کو بھرا ہو ا دیا گیا ہے اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادموں کا یہ درجہ ہے تو آپ کے اپنے مقام کی بلندی کا اندازہ بآسانی ہو سکتا ہے مگر اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ ابھی آپ کے سامنے بھی مدارج کا ایک لامتناہی سلسلہ باقی ہے چنانچہ آپ نے خود یہ دعا مسلمانوں کو کرنے کا حکم دیا کہ اتِ مُحَمَّدَل الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ يعنى اے خدا ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیشک بہت ترقیات حاصل کی ہیں مگر تیرے فضلوں کے مدارج لا متناہی ہیں اور ہمارا دل یہ نہیں چاہتا اور ہماری غیرت برداشت نہیں کرسکتی