خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 573 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 573

خطبات محمود ۵۷۳ سال ۱۹۳۹ء غریب بندے بھوکے تھے اور تم نے ان کو کھانا کھلایا۔وہ پیا سے تھے تم نے انہیں پانی پلایا ، وہ ننگے تھے اور تم نے انہیں کپڑے پہنائے۔۵ غور کرو یہ کتنا عظیم الشان درجہ ہے جو غریبوں کو کھانا کھلانے سے حاصل ہو سکتا ہے اور خوشیوں کو ایسے رنگ میں منانے سے ہو سکتا ہے جو رسول کریم کی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مگر تیل خرچ کر دینے پر خدا تعالیٰ کیا کہہ سکتا ہے؟ کیا وہ کہے گا کہ ان میرے بندوں کو جنت میں اعلیٰ درجہ کے انعام دو کیونکہ یہ بازار سے تیل خرید کر لائے ، بہت سے دیے جلائے اور اس طرح اپنی آنکھیں تو خوش کر لیں مگر میرے کسی بھوکے اور پیا سے بندے کی خبر نہ لی۔یہ فقرہ اللہ تعالیٰ کی زبان پر سجتا نہیں مگر وہ دوسرا فقرہ تو دل کو لگتا ہے اور اس سے ایسا درد پیدا ہوتا ہے کہ ہر انسان کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کسی طرح اسے خدا تعالیٰ سے اپنے لئے سُن لے مگر یہ تو ایسا ہے کہ نہ اسے کان برداشت کر سکتے ہیں اور نہ خدا تعالیٰ کی زبان سے زیب دیتا ہے۔پس جو کرنا چاہو کر ولیکن شریعت کے مطابق کرو اور ایسے رنگ میں کرو کہ دُنیا بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکے۔جب تمہارے کام دُنیا کے لئے مفید بن جائیں گے تو خدا تعالیٰ دُنیا کے دوسرے کاموں کو بھی تمہارے لئے مفید بنا دے گا۔جب تم لوگوں کے لئے اپنے کاموں کو مفید بناؤ گے تو خدا تعالیٰ دوسروں کے کام تمہارے لئے مفید بنادے گا۔دوسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں اور جس کے لئے اب میں ایک دو منٹ سے زیادہ وقت نہیں دے سکتا یہ ہے کہ جلسہ سالانہ کے دن قریب ہیں اس کے لئے دوستوں کو چاہئے کہ اپنی خدمات اور مکانات بھی پیش کریں۔جن کے دلوں میں یہ جوش اُٹھتا ہے کہ جو بلی کے موقع پر شعر پڑھتے ہوئے چلتے جائیں انہیں چاہئے کہ جلسہ پر آنے والوں کے لئے مکان بھی خالی کر کے دیں اور اپنی خدمات بھی پیش کریں۔پس اگر جو بلی کے موقع پر خوشی منانا چاہتے ہو تو اس کا بہترین طریق یہی ہے کہ غرباء کو کھانا کھلاؤ ، مکانات خالی کر کے مہمانوں کے لئے پیش کرو اور اپنے افراد کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں فارغ کر کے خدمات کے لئے پیش کرو۔یہ تو ٹھیک نہیں کہ تم لوگوں کے لئے اعلان تو یہ کرو کہ آجاؤ آ جاؤ اور اگر وہ آ جائیں تو نہ ان کے رہنے کے لئے کوئی مکان ملے اور نہ کوئی خدمت کرنے والا ہو۔لوگ آئیں اور یہاں ان کے