خطبات محمود (جلد 20) — Page 57
خطبات محمود ۵۷ سال ۱۹۳۹ء۔نہ رہے۔بیسیوں ممالک ایسے ہیں جن میں تبلیغ کے راستہ میں سخت مشکلات حائل ہیں صرف برطانوی حکومت ہی ایسی ہے جس کی طرف سے تبلیغ پر کوئی پابندی عائد نہیں۔اس لئے نہیں کہ کی برطانوی حکومت دل میں مسلمان ہے بلکہ اس لئے کہ اُس کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ وہ مذہب کے معاملہ میں دخل دینا نہیں چاہتی۔پس ہماری دوستی کی خاطر نہیں بلکہ اپنے مقررہ اصول کی وجہ سے انگریزوں نے تبلیغ مذہب کے متعلق کسی پر کوئی پابندی عائد نہیں کی اور نہ کسی قسم کی پابندی وہ عائد کرنا چاہتے ہیں اور یہ ایک بہت بڑا فائدہ ہے جو حکومتِ برطانیہ کی وجہ سے مختلف مذاہب کو حاصل ہے۔ایک ہندو بھی آزادی سے تبلیغ کر سکتا ہے، ایک عیسائی بھی آزادی سے تبلیغ کر سکتا ہے، ایک سکھ بھی آزادی سے تبلیغ کر سکتا ہے اور ایک مسلمان بھی آزادی سے تبلیغ کر سکتا ہے۔پس چونکہ حکومت برطانیہ کی وجہ سے تبلیغ کا دروازہ کھلا ہے اور یہ ایک بہت بڑا فائدہ ہے جو مذہبی جماعتوں کو حاصل ہے اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم حتی المقدور مصیبت پر اس کی مدد کریں گی اور اپنے تمام ذرائع کو استعمال میں لاکر اس کے ساتھ تعاون کریں۔بعض لوگ نادانی سے کہہ دیا کچ کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے ساتھ حکومت برطانیہ خاص طور پر مراعات کیا کرتی ہے۔یہ بالکل جھوٹ ہے اور کوئی شخص ثابت نہیں کر سکتا کہ ہمیں اُن فوائد سے زیادہ کوئی فائدہ حاصل ہوا ہو جو ہندوؤں ،سکھوں ، عیسائیوں اور دوسرے مذاہب والوں کو حکومتِ برطانیہ کے زیر سایہ حاصل ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ ہمارے اندر خدا تعالیٰ نے شکر گزاری کا مادہ رکھا ہے اور اُن کا دل اس نے سیاہ کر دیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہماری ناک بیشک کٹ جائے مگر دشمن پر کسی طرح الزام آ جائے اور ہم کہتے ہیں کہ ہماری ناک بھی نہ کٹے اور حکومت کے احسانات کی ناشکر گزاری بھی نہ ہو۔اس لئے وہ با وجود فائدہ اُٹھانے کے حکومت کی بغاوت کرتے ہیں مگر ہم جب فائدہ اُٹھاتے ہیں تو حکومت کی تعریف بھی کر دیتے ہیں۔پس فرق صرف شکر گزاری اور می ناشکر گزاری کے جذبات کا ہے۔ورنہ کوئی شخص ثابت نہیں کر سکتا کہ انگریزی حکومت نے ہمیں کوئی ایسا فائدہ پہنچایا ہو جو ہندوؤں کو نہ پہنچا ہو یا سکھوں کو نہ پہنچا ہو یا یہودیوں کو نہ پہنچا ہو۔جو سلوک حکومت برطانیہ دوسروں کے ساتھ کرتی ہے وہی ہم سے کرتی ہے بلکہ اُن کے ساتھ کچھ زیادہ ہی سلوک کرتی ہے کیونکہ وہ اکثریت میں ہیں اور ہم اقلیت ہیں اور طبعاً اکثریت کا