خطبات محمود (جلد 20) — Page 564
خطبات محمود ۵۶۴ سال ۱۹۳۹ء کوئی طاقت نہیں کر سکتی۔بیشک ظاہری بینائی رکھنے والوں کی آنکھ سے ان کا مستقبل پوشیدہ ہے مگر جن کی باطنی آنکھ کھلی ہے وہ ان کے کام کو نہایت ہی شاندار نتائج پیدا کرنے والا دیکھ رہے ہیں۔کیونکہ وہی ہیں جو آج اس بیج کو بور ہے ہیں جس نے کل ایک ایسے عظیم الشان درخت کی شکل اختیار کرنی ہے جس کے سایہ کے نیچے دُنیا کی تمام اقوام آرام کریں گی۔ہماری کوششوں کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسے ایک غریب اور کمزور انسان جس کے تن کو صرف چیتھڑوں نے ڈھک رکھا ہو دُنیا سے الگ ایک جنگل میں چھوٹا سا بیج بوتا دکھائی دے۔جنگل کی ہدہدیں بھی اس کی۔کے بیوقوفانہ ارادوں پر حیران ہو رہی ہوں۔فاختہ بھی ہنس رہی ہو، چڑیاں بھی ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہی ہوں اور کہتی ہوں کہ کس امید پر یہ شخص بیج بو رہا ہے۔ادھر یہ بیج بو کر ہٹے گا ادھر ہم چونچ سے بیج کو زمین میں سے نکال کر کھا جائیں گی۔زمین پر تو اس کا یہ حال ہولیکن آسمان پر خدا کے فرشتے اس کے کام کو دیکھتے ہوئے ادب اور احترام کے ساتھ سر جھکائے کھڑے ہوں اور کہہ رہے ہوں خاموش کہ دُنیا میں پھر سچائی کا بیج بویا جا رہا ہے۔خدا تعالیٰ کا کی ہاتھ اُس کے اوپر ہو گا وہ آپ اُسے بڑھائے گا اور ترقی دے گا یہاں تک کہ وہ بیج ایک تناور درخت کی صورت اختیار کرلے گا اور تمام دنیا اس کے سایہ کے نیچے آرام کرنے پر مجبور ہوگی۔“ (الفضل ۸/ دسمبر ۱۹۳۹ء ) ا و میجی ٹکڑہ، پرزہ ، چیتھڑا ل السيرة النبوية لابن هشام جلد ا صفحه ۲۰۰ مطبع مصطفی البابی الحلبی و اولاده بمصر مطبوعہ ۱۹۳۶ء السيرة النبوية لابن هشام جلد ا صفحه ۲۸۵ مطبع مصطفی البابی الحلبی و اولاده بمصر مطبوعه ۱۹۳۶ء السيرة النبوية لا بن هشام جلد ا صفحه ۲۶۶ مطبع مصطفى البابي الحلبي واولاده بمصر مطبوعہ ۱۹۳۶ء