خطبات محمود (جلد 20) — Page 561
خطبات محمود ۵۶۱ سال ۱۹۳۹ء ساتھ ساتھ بلکہ سو سو گاؤں کے مالک تھے۔اس لئے انہیں بعض دوستوں نے مشورہ دیا کہ بجائے اس جگہ روپیہ ضائع کرنے کے آپ باہر چالیس پچاس گاؤں خرید لیں مگر اُنہوں نے جواب دیا کہ اگر باہر ہم نے گاؤں خرید بھی لئے تو ہمارے بچے جب کبھی باہر نکلیں گے اور لوگ ایک دوسرے سے دریافت کریں گے کہ یہ کون ہیں تو وہ آگے سے کہیں گے کہ خبر نہیں کون ہیں۔کوئی باہر سے آئے ہوئے ہیں لیکن اگر قادیان اور اس کے ارد گرد ہمیں دوا یکٹر زمین بھی ملک جائے اور ہماری اولا د فاقوں میں بھی مبتلا ہو جائے تو بھی جب ان کی نسبت کوئی سوال کرے گا کی کہ یہ کون ہیں؟ تو لوگ جواب دیں گے کبھی یہ ہمارے حاکم اور بادشاہ تھے۔مگر اب گردشِ ایام سے غریب ہو گئے ہیں۔چنانچہ اسی خیال کے ماتحت اُنہوں نے ایک لاکھ روپیہ ضائع کر دیا اور قادیان میں انہیں جو تھوڑی سی جائداد ملی اس پر اکتفا کر لیا۔میں سمجھتا ہوں وہ جائیداد جو انہیں ملی وہ اس جائیداد کا پانچ سوواں حصہ بھی نہیں تھی جو وہ اس روپیہ سے خرید سکتے تھے مگر بہر حال اُنہوں نے اس تھوڑی سی جائیداد کو خوشی سے قبول کیا لیکن اس مقام کو چھوڑ نا پسند نہ کیا جہاں انہیں اپنے بزرگوں کی وجہ سے ایک رنگ کی حکومت حاصل تھی۔غرض پرانے خاندانوں کے افراد اپنی خاندانی عزت کو جاتے دیکھنا برداشت نہیں کر سکتے اور اس کے لئے ہر ممکن قربانی کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔پس جب ابو طالب سے مکہ والوں نے کہا کہ اگر آپ اپنے بھتیجے کو نہ روک سکے اور اس کی حمایت بھی نہ چھوڑی تو پھر آپ کا اور ہمارا تعلق قطع ہو جائے گا تو ابو طالب بالکل گبھرا گئے اور کی اُنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر کہا اے میرے بھتیجے ! اب تیری قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔آج بڑے بڑے رؤسا اکٹھے ہو کر میرے پاس آئے تھے اور وہ مجھے کہتے تھے کہ ابوطالب صرف تیری حفاظت کی وجہ سے ہم نے تیرے بھتیجے کو اب تک چھوڑا ہوا تھا اور ہم نے تیرا بڑا لحاظ کیا۔کیونکہ تو شہر کا رئیس ہے مگر آخر یہ ظلم کب تک برداشت کیا جا سکتا ہے؟ اگر ی تیرا بھتیجا اب بھی باز نہ آیا اور اُس نے ہمارے معبودوں کو بُرا بھلا کہنا ترک نہ کیا تو ہم تجھے بھی ریاست سے جواب دے دیں گے اور آئندہ تیری کوئی عزت نہیں کریں گے اور اے میرے بھیجے انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر تیرا بھتیجا تھوڑی سی بھی نرمی کرے اور ہمارے بنوں کو