خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 512

خطبات محمود ۵۱۲ سال ۱۹۳۹ء کہ کچھ کھانے کو دو۔اُس نے دو تین روٹیاں اور کچھ سالن اوپر ہی ڈال کر دے دیا۔یہ چل پڑے تو ساتھ ہی اُس دوست کا کتا بھی پیچھے پیچھے ہو لیا۔وہ دُم ہلاتا جاتا تھا اور پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔اُس بزرگ نے سمجھا کہ اس روٹی میں اس کا بھی حق ہے کیونکہ اس گھر کی نگرانی کرتا ہے اور کی اُس نے ایک روٹی پر سالن کا تیسرا حصہ ڈال کر اُسے ڈال دی۔کتے نے وہ کھالی اور پھر پیچھے پیچھے چل پڑا۔بزرگ نے خیال کیا کہ بے شک اُس کا حق زیادہ ہے کیونکہ یہ اُس گھر کا محافظ ہے کی اور ایک روٹی پر سالن کا ایک اور حصہ ڈال کر اُس کے آگے پھینک دی مگر گستا وہ کھا کر بھی پیچھے چل پڑا۔ادھر اُس بزرگ کو خود سخت بھوک لگی ہوئی تھی وہ کہنے لگا کہ تو بڑا بے حیا ہے میں تین میں سے دو روٹیاں تجھے دے پچکا ہوں مگر پھر بھی پیچھا نہیں چھوڑتا۔یہ کہنا تھا کہ معا کشف کی حالت پیدا ہوئی وہ دُنیا کی حالت کو بالکل بھول گئے۔گتے کی روح متمثل ہو کر ان کے سامنے آئی اور کہا کہ تم مجھے بے حیا کہتے ہو حالانکہ میں تو کہتا ہوں اور تم انسان ہو۔مجھے سات سات فاقے اس گھر میں آئے اور میں نے اس ڈیوڑھی کو نہیں چھوڑ ا مگر تمہیں تین دن کا فاقہ آیا اور تم چھوڑ کر شہر کو آگئے۔بتاؤ بے حیا میں ہوں یا تم ہو؟ یہ بات سُن کر ان کی آنکھیں کھل گئیں اور تیسری روٹی مع سالن بھی گتے کے آگے پھینک دی۔جب واپس اپنے مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک شخص نہایت پر تکلف کھانے لئے بیٹھا ہے اور کہتا ہے کہ آپ کہاں چلے گئے تھے میں انتظار میں تھا تو تو کل کا مقام یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر نظر نہ رکھے اور توکل کے یہ معنے بھی نہیں ہیں کہ خدا تعالیٰ کی جستجو کرنے والوں کے لئے سامان کرنے منع ہیں۔سامان بھی کئے ج جاسکتے ہیں۔تجارت ، نوکری، زراعت وغیرہ سب کام کرنے جائز ہیں مگر نظر خدا تعالیٰ پر ہی کی ہونی چاہئے کہ وہی سب ضروریات پوری کرے گا۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ ایسے ہوتے کی ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش کے طور پر بھی کوئی کمی ہوئی تو جھٹ چندہ میں کمی کر دیتے ہیں دس روپیہ آمد تھی تو روپیہ چندہ دیتے تھے مگر جب آمد و رہ گئی تو چندہ آٹھ آ نہ کر دیا کہ اور اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آمد میں اور کمی کر دی اور آٹھ کے چھ رہ گئے تو پھر چند ۲۰ کر دیا۔گویا آمد میں تو چار کی کمی ہوئی اور چندہ میں ۱۴ ء کی کر دی۔اللہ تعالیٰ بھی یہ سب کچھ دیکھتا ہے۔اُس نے آمد میں اور کمی کی تو چندہ دینا ہی بند کر دیا۔ایسی حالت میں خدا بھی آمد کا دروازہ