خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 504

خطبات محمود ۵۰۴ سال ۱۹۳۹ء ہیں۔اتنے میں یکدم دور افق میں بجلی چمکی اور روشنی سی ہوئی اور معا مجھے القا ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی دوسری تجلتی ہے۔پہلی تجاتی وہ تھی جو میرے پہنچنے سے قبل ظاہر ہو چکی ہے اور گویا وہ ادنی تجلی تھی اور اسے دیکھ کر فرشتے یہ مصرعہ پڑھنے لگے تھے کہ ے زنہار میں نہ مانوں گا چہرہ دکھا مجھے اور گومیں نے پہلی تجلی نہیں دیکھی مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ دوسری زیادہ ہے اور جب یہ ظاہر ہوئی تو فرشتوں نے پہلے مصرعہ کی بجائے یہ مصرعہ پڑھنا شروع کر دیا کہ اک معجزہ دکھا کے تو عیسی بنا مجھے یوں معلوم ہوتا تھا کہ سب ملائکہ نہایت جوش کے ساتھ اکٹھے جس طرح انگریزوں کے ہاں Chorus ہوتا ہے گا رہے ہیں۔وہ کچھ دیر اسی جوش اور شدت کے ساتھ گاتے رہے اور یوں معلوم ہونے لگا کہ گویا ان کی آواز نے اللہ تعالیٰ کے عرش کو ہلا دیا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس کی آخری تجلی ہوئی اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ پہلی تجلی جو میرے پہنچنے سے قبل ظاہر ہوئی عاشقانہ تحجتی تھی ، دوسری عیسوی تجلتی تھی اور یہ تیسری محمدی تجلّی ہے جس میں بہت نور تھا اس پر فرشتوں نے ایک تیسرا مصرعہ پڑھنا شروع کر دیا جو مجھے یاد نہیں رہا اور اس پر میری آنکھ کھل گئی۔مجھے یاد ہے کہ میں خواب میں ہی کہہ رہا تھا کہ یہ تیری تجلی محمدی تجلی ہے۔جب اللہ تعالیٰ کسی کو کسی مقام پر کھڑا کرنا چاہتا ہے تو وہ اُسے پہلے اُس مقام کی ادنی تجلی دکھاتا ہے جن سے اس کے اندر اس مقام کے حصول کے لئے شوق پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اس کے لئے والہا نہ طور پر کوشش شروع کر دیتا ہے۔سب سے پہلے وہ عام عشق کی تجلتی دکھاتا ہے جو عام لوگوں کے لئے ہے۔اسے دیکھ کر جن لوگوں کے دلوں میں محبت کا جذبہ ہوتا ہے وہ کہہ اُٹھتے ہیں کہ ہمیں اس کی پوری تجلی دکھا اور بے تاب ہو ہو کر کہتے ہیں کہ زنہار میں نہ مانوں گا چہرہ دکھا مجھے جس پر وہ تجلی انہیں دکھائی جاتی ہے اس تجلی کے بھی بہت سے درجے ہوتے ہیں۔جب وہ اپنے مناسب حال در جوں کو طے کر لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اس سے اوپر کی تجلی کے لائق پاتا ہے تو اُس کے دل میں اس کا شوق پیدا کرنے کے لئے ایک ادنی تجلی دوسرے مقام کی