خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 499

خطبات محمود ۴۹۹ سال ۱۹۳۹ء کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔بیشک جب میں نے یہ دعا کی تو یہ بھی نقل تھی مگر حقیقت یہ ہے کہ اس وقت مجھے یہ واقعہ یاد نہیں تھا بلکہ اتنا بھی خیال نہیں تھا کہ میں زندہ بھی ہوں۔میں تو سمجھتا تھا کہ میں مر چکا ہوں اور اسرافیل صور پھونک رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہے کہ میری طرف چلے آؤ۔اس لئے اس وقت میں نے جو فعل کیا وہ نقل نہیں تھا لیکن چونکہ یہ واقعہ میں نے پہلے سُنا ہوا تھا اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ دماغ کے پس پردہ ضرور اُس کا اثر تھا۔تو منہ سے کوئی بات کہہ دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ دُعا کے لئے ان کیفیات اور جذبات کا پیدا ہونا ضروری ہے جو دعا کی قبولیت کے لئے ضروری ہے۔میں بتا یہ رہا تھا کہ بعض چیزیں گو چھوٹی ہوتی ہیں مگر انسان اپنی ضروریات کے مطابق انہیں مانگ لیتا ہے اور بعض بہت زیادہ ضروری ہوتی ہیں مگر چونکہ اسے ان کی اہمیت کا علم نہیں کی ہوتا اس لئے ان کے لئے دُعا نہیں کرتا۔حالانکہ انسان اگر اپنی نظر وسیع کرے اور خدا تعالیٰ کے کی کلام پر غور کرے تو اُس کی نظر ایسی چیزوں پر پڑ سکتی ہے جو ضروری ہیں مگر ان کا علم قرآن کریم پر غور کئے بغیر نہیں ہو سکتا۔ان آیات میں جو میں نے پڑھی ہیں دیکھو اللہ تعالیٰ کس طرح انسان کے ذہن کو اس طرف لے گیا ہے۔رمضان کی غرض خدا تعالیٰ کو ملنا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے روزہ کا بدلہ میں آپ ہوں یعنی جب کوئی روزہ رکھتا ہے تو میں اُسے مل جاتا ہوں۔اسی مضمون کی طرف ان آیات میں جو میں نے ابھی پڑھی ہیں اشارہ کیا گیا ہے۔فرماتا ہے اے ہمارے رسول و اذا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَانّي قریب تو نے میرے بندوں کو بتایا ہوا ہے کہ روزہ رکھنے سے خدا ملتا ہے۔پس جب وہ روزہ رکھیں گے تو ضرور پوچھیں گے کہ خدا کہاں ہے؟ تو اس سوال کے جواب میں یہ کہنا کہ راتي قريب اللہ فرماتا ہے میں تمہارے پاس ہی بیٹھا ہوں۔اس پر وہ سوال کر سکتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کی پاس ہی ہے تو نظر کیوں نہیں آتا۔نیز اگر وہ پاس ہے تو کون سا طریق ہے کہ ہم اُس کے پاس ہونے سے فائدہ اُٹھا سکیں۔اس کے جواب میں فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ اُجیب دعوة الداع إذا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ - يعنى ان کے روزوں کی وجہ سے تو ہم ان کے پاس تو بے شک آن بیٹھے ہیں مگر چونکہ ہماری ذات کی