خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 48

خطبات محمود ۴۸ سال ۱۹۳۹ء مٹی لے آتے تھے۔میں نے انہیں کہا کہ اس کا تو یہ مطلب ہے کہ آج آپ سڑک کے گڑھے پر کریں اور کل آپ ان گڑھوں کو پُر کرنے لگ جائیں جو اس سڑک پر مٹی ڈالنے کے لئے آپ نے کھو د لئے ہیں۔تو یہ ایک نقص ہے جو خدام الاحمدیہ کے کام میں ہے اور اسے دور کرنا چاہئے مگر اس کے علاوہ ضروری بات یہ ہے کہ وہ ایک سڑک یا ایک گلی لے لیں اور اس کی صفائی اور مرمت اس حد تک کریں کہ اس سڑک یا گلی میں کوئی نقص نہ رہے۔مثلاً وہ ایک سڑک کو درست کی کرنا چاہتے ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ انجینئروں سے مشورہ لیں اور ان سے پوچھیں کہ یہ سڑک کس طرح درست ہو سکتی ہے۔پھر جو طریق وہ بتا ئیں اور جو نقشہ انجینئر تجویز کریں اُس کے مطابق وہ اس سڑک کی درستی کریں اور چھ مہینے یا سال جتنا وقت بھی اس پر صرف ہو اتنا وقت اس پر صرف کیا جائے اور اس سڑک کو انجینئر کے بتائے ہوئے نقشہ کے مطابق درست کیا جائے مگر اب یہ ہوتا ہے کہ چند مٹی کی ٹوکریاں ایک گڑھے میں ڈال دی جاتی ہیں اور چند دوسرے گڑھے میں اور کسی کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ کوئی کام ہوا ہے۔پس پہلی ہدایت تو یہ ہے کہ کوئی ایک کام شروع کیا جائے اور اُسے ایسا مکمل کیا جائے کہ کوئی انجینئر بھی اس میں نقص نہ نکال سکے۔دوسری بات یہ ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ دوسرے آدمیوں سے کوئی کام نہیں لیا جاتا حالانکہ خدام الاحمدیہ کے کام کرنے کے یہ معنی نہیں کہ دوسروں کے لئے اس میں حصہ لینا ممنوع ہے۔جو لوگ میرے خطبات سُنا کرتے ہیں وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ میں نے امور عامہ کو بار بار ہاتھ سے کام کرنے کے پروگرام کی طرف توجہ دلائی ہے۔بلکہ بعض دفعہ میں نے اتنی سختی سے کام لیا ہے کہ میں سمجھتا ہوں اگر ان میں ذرا بھی جس ہوتی تو وہ اس کام کی طرف ضروری توجہ کرتے۔مگر سال گزر گیا اور ابھی تک وہ ایسی نیند سوئے پڑے ہیں کہ اُٹھنے کا نام ہی نہیں لیتے۔امور عامہ کی غفلت کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ ہم لوگ جن کا دل چاہتا ہے کہ رفاہ عام کے کاموں میں حصہ لیں اس سے محروم رہتے ہیں اور کوئی کام نہیں کر سکتے۔پس چونکہ امور عامہ سو یا پڑا ہے اس لئے میں مجلس خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ صرف ممبران سے ہی کام نہ لیا کریں بلکہ بعض دنوں میں وہ عام اعلان کر کے باقی جماعت کے دوستوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا کریں بلکہ وہ کام کرنے کے لئے مجھے بھی بلا لیا کریں۔آخر اگر ہاتھ سے کام کرنا ثواب ہے تو کیا وجہ ہے