خطبات محمود (جلد 20) — Page 444
خطبات محمود ۴۴۴ سال ۱۹۳۹ء مجھے مشورہ دو۔اس پر پھر کوئی اور مہاجر کھڑا ہوتا اور کہتا یا رَسُول اللہ ! مشورہ کیا پوچھتے ہیں ہمیں حکم دیجئے ہم لڑنے کے لئے حاضر ہیں۔جب وہ بیٹھ جاتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر فرماتے۔اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔آخر جب بار بار رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فقرہ کو دوہرایا تو انصار سمجھ گئے کہ شائد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ ہم اپنی رائے کا کی اظہار کریں۔چنانچہ ایک انصاری کھڑا ہوا اور اُس نے کہا یا رَسُول اللہ ! آپ کی مراد شاید ہم کی انصار سے ہے۔آپ نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے۔میری مراد تمہی سے ہے۔اس نے کہا یا رَسُول الله ! شاید آپ کا اشارہ اس معاہدہ کی طرف ہے جو ہم نے آپ کے مدینہ آنے پر کیا تھا؟ آپ نے کی فرمایا ہاں۔بات دراصل یہ تھی کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو انصار سے آپ کا یہ معاہدہ ہوا تھا کہ اگر کوئی دشمن مدینہ پر حملہ کرے گا تو لڑائی میں انصار مہاجرین کے ساتھ شریک ہوں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر کسی دشمن کا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقابلہ کرنا ہوا تو انصار اس بات کے پابند نہیں ہوں گے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد می کریں۔چونکہ اس موقع پر مدینہ سے باہر جنگ ہو رہی تھی اس لئے آپ نے چاہا کہ انصار کو اُن کا معاہدہ یاد دلا دیا جائے اور پھر اس کے بعد وہ جو مشورہ چاہیں دیں۔پس جب اُس انصاری نے کہا کہ یا رسول اللہ ! کیا آپ کی مراد اس معاہدہ سے ہے جو ہم نے آپ کے مدینہ آنے پر کیا تھا تو آپ نے فرمایا ہاں۔وہ کہنے لگا یا رسول اللہ ! ہمیں اُس وقت آپ کی حیثیت کا علم کی نہیں تھا اور ہمیں معلوم نہیں تھا کہ آپ کس پائے کے انسان ہیں۔اس لئے ہم نے لاعلمی میں کی ایک ایسا معاہدہ کر لیا جس میں آپ کی شان اور بزرگی کو پوری طرح ملحوظ نہیں رکھا گیا مگر يَا رَسُول اللہ ! اب تو ہم پر حقیقت کھل چکی ہے اور اب ہم سمجھ چکے ہیں کہ ہم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہیں ، سامنے سمندر تھا۔( دو تین منزل کے فاصلہ پر یہ نہیں کہ نظر آتا تھا ) اُس کی طرف اشارہ کر کے وہ کہنے لگا یا رَسُول اللہ ! اگر آپ حکم دیں کہ ہم اس بے کنا رسمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دیں تو ہم بغیر ہچکچاہٹ اور بغیر ایک ذرہ بھر تر ڈر کے اپنے گھوڑے اس سمندر میں ڈالنے کے لئے تیار ہیں۔پھر اس نے کہا۔یا رَسُول اللہ ! اگر جنگ ہوئی تو ہم میں سے ایک شخص بھی پیچھے نہیں رہے گا اور کوئی دشمن اُس وقت تک آپ کے پاس نہیں پہنچ سکے گا جب تک وہ