خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 406

خطبات محمود ۴۰۶ سال ۱۹۳۹ء ا نگل گیا۔اس کے بعد وہ پھر واپس لوٹا اور اس غصہ میں کہ میں اس احمدی کو بچانے کے لئے کی کیوں اس کے پیچھے دوڑا تھا اُس نے مجھ پر حملہ کیا مگر جب وہ مجھ پر حملہ کرتا ہے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرے قریب ہی ایک چار پائی پڑی ہوئی ہے مگر وہ بنی ہوئی نہیں صرف باہیاں وغیرہ ہیں درمیان میں سوت سے اُسے بنا نہیں گیا۔پس جس وقت اثر دہا میرے پاس پہنچا میں کود کر اُس چار پائی پر کھڑا ہو گیا اور میں نے ایک پیر ایک سرے پر اور دوسرا پیر دوسرے سرے پر رکھ لیا۔جب اثر دہا چار پائی کے قریب پہنچا تو لوگ مجھے کہنے لگے کہ آپ اس اثر دہا کا کس طرح کی مقابلہ کر سکتے ہیں جبکہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما چکے ہیں کہ لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمَا ، اس وقت مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ سانپ کا حملہ دراصل یا جوج اور ماجوج کا حملہ ہے اور یہ حدیث ان کے بارہ میں ہے اور میں اس وقت یہ بھی خیال کرتا ہوں کہ یہ دجال بھی ہے۔پس وہ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ آپ اس کا مقابلہ کس طرح کر سکتے ہیں جبکہ رسولِ کریمی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرما چکے ہیں کہ دُنیا کی کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔اتنے میں وہ اثر دہا میری چار پائی کے قریب پہنچ گیا اور میں نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا دیئے اور اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگنی شروع کر دی۔اسی دوران میں میں ان احمدیوں سے جنہوں نے مجھے مقابلہ کرنے سے منع کیا تھا اور کہا تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما چکے ہیں کہ یا جوج اور ماجوج کا مقابلہ دُنیا کی کوئی طاقت نہیں کر سکے گی تو آپ ان کا مقابلہ کس طرح کی کر سکتے ہیں کہتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ لَا يَدَانِ لاَحَدٍ بِقِتَالِهِمَا کہ کسی کے پاس کوئی ایسا ہاتھ نہیں ہوگا جس سے وہ ان دونوں کا مقابلہ کر سکے مگر میں نے تو اپنے دونوں ہاتھ ان کی طرف نہیں اُٹھائے بلکہ میں اپنے ہاتھ خدا کی طرف کی اُٹھا رہا ہوں اور خدا تعالیٰ کی طرف ہاتھ اُٹھا کر فتح پانے کے امکان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رد نہیں فرمایا۔غرض میں نے ہاتھ اُٹھا کر دعا کی اور میں نے دیکھا کہ دُعا کرنے کے نتیجہ میں اس اثر دھا کے جوش میں کمی آنی شروع ہو گئی اور آہستہ آہستہ اس کی تیزی کم ہوگئی کی چنانچہ وہ پہلے تو میری چارپائی کے نیچے گھسا پھر اس کے جوش میں کمی آنی شروع ہوئی، پھر وہ خاموشی سے لیٹ گیا اور پھر میں نے دیکھا کہ وہ ایک ایسی چیز بن گیا ہے جیسے جیلی ہوتی ہے۔