خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 382

خطبات محمود ۳۸۲ سال ۱۹۳۹ء کے معنی در حقیقت یہی ہیں کہ میرے اندر کا شیطان مسلمان ہو گیا ہے اور وہ روح بھی نکل گئی ہے جو کبھی تکلیف کے وقت میں کبھی مصائب کے وقت میں اور کبھی غیرت کے مواقع پر احتجاج کرنا کی چاہتی ہے اور خدائی احکام کے خلاف ایک مخفی احتجاج کرتی ہے۔وہ احتجاج کی روح بھی مٹی گئی ہے اور اب وہ کامل مسلمان ہو گئی ہے۔یہی وہ رُوح ہے جس کے متعلق ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے تم کو بہت حکم دیئے مگر میں نے تم سے مخلص ترین لوگوں کے اندر بھی بعض دفعہ احتجاج کی روح دیکھی مگر ابو بکر کے اندر میں نے یہ روح کبھی نہیں دیکھی۔سے چنا نچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا انسان بھی گھبرا گیا اور وہ اسی گبھراہٹ کی حالت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے اور کہا کہ کیا ہمارے ساتھ خدا کا یہ وعدہ نہیں تھا کہ ہم عمرہ کریں گے۔انہوں نے کہا ہاں خدا کی کا وعدہ تھا اُنہوں نے کہا کیا خدا کا ہمارے ساتھ یہ وعدہ نہیں تھا کہ وہ ہماری تائید اور نصرت کرے گا ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں تھا۔اُنہوں نے کہا تو پھر کیا ہم نے عمرہ کیا ؟ حضرت ابو بکر نے کہا۔عمر ! خدا نے کب کہا تھا کہ ہم اسی سال عمرہ کریں گے؟ پھر اُنہوں نے کہا کیا ہم کو فتح و نصرت حاصل ہوئی ؟ حضرت ابو بکر نے کہا۔خدا اور اُس کا رسُول فتح ونصرت کے معنے ہم سے بہتر جانتے ہیں مگر عمر کی اس جواب سے تسلی نہ ہوئی اور وہ اسی گھبراہٹ کی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا خدا کا ہم سے یہ وعدہ نہ تھا کہ ہم مکہ میں طواف کرتے ہوئے داخل ہوں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اُنہوں نے عرض کیا کیا ہم خدا کی جماعت نہیں ؟ اور کیا خدا کا ہمارے ساتھ فتح و نصرت کا وعدہ نہیں تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ، تھا۔حضرت عمر نے کہا تو یا رَسُول اللہ ! کیا ہم نے عمرہ کیا ؟ آپ نے فرمایا کی خدا نے کب کہا تھا کہ ہم اسی سال عمرہ کریں گے۔یہ تو میرا خیال تھا کہ اس سال عمرہ ہو گا۔خدا نے تو کوئی تعیین نہیں کی تھی۔اُنہوں نے کہا تو پھر فتح و نصرت کے وعدے کے کیا معنے ہوئے؟ آپ نے فرمایا نصرت خدا کی ضرور آئے گی اور جو وعدہ اُس نے کیا ہے وہ بہر حال پورا ہوگا۔ھے گویا جو جواب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیا تھا وہی جواب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیا۔