خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 364

خطبات محمود ۳۶۴ سال ۱۹۳۹ء اُنہوں نے کہا نہیں ہوئی۔میں نے کہا خیر اب تین دن گزر گئے ہیں۔مولوی صاحب نے کہا کہ آپ کا انتظار تھا اب ہو جائے گی۔میں نے اسی وقت آسمان کی طرف نگاہ کر کے دُعا کی کہ الہی تیرا بارش کا قانون تو عام ہے۔وہ خاص بندوں سے تعلق نہیں رکھتا مگر بعض اوقات دل میں اُمید پیدا ہو جاتی ہے جو اگر پوری نہ ہو تو بعض اوقات ابتلا پیدا ہوتا ہے اور اگر پوری ہو جائے تو تقویت ایمان کا موجب ہوتا ہے اور میں نے دُعا کی کہ ۲۴ گھنٹے کے اندراندر بارش ہو۔رات کو میں نے انتظار کیا۔صبح دس بجے کے قریب میں اندر بیٹھا تھا کہ روشندانوں پر چھینٹے پڑنے کی آواز آئی۔بالکل معمولی ترشح ۵ تھا۔میں نے دُعا کی کہ خدایا! ایسی بارش تو کافی نہیں۔مخلوق کو تو ایسی بارش کی ضرورت ہے جس سے لوگ سیراب ہوں اس کے کچھ عرصہ بعد میں باہر نکلا کہ باہر جو دفتر کے آدمی صفائی کر رہے تھے انہیں دیکھوں کہ کام ختم کر چکے یا نہیں۔میں نے دُور ایک چھوٹی سی بدلی دیکھی اور دُعا کی کہ خدایا ! اسے بڑھا دے اور پھیلا دے اور پندرہ منٹ کے بعد میں نے دیکھا کہ بارش شروع ہو گئی اور پانی بہنے لگا۔تو یہ ایک نشان ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مگر میں نے اس سے بڑھ کر بھی نشان مشاہدہ کئے ہیں۔ایک دفعہ جب میں ابھی چھوٹا تھا اور پیچش کی شکایت تھی۔بارش زور سے ہو رہی تھی اور مجھے اس قدر بھلی معلوم ہو رہی تھی کہ میں کھڑکی میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔اس وقت مجھے سخت حاجت پاخانہ کی محسوس ہوئی۔چونکہ اسی کی بارش سے لطف اُٹھا رہا تھا میں نے سمجھا کہ میں پاخانہ جاؤں گا تو چونکہ ایسی بارش تھوڑی دیر کی ہوتی ہے میرے آنے تک یہ بارش ہو جائے گی۔میں نے اپنی عمر کے لحاظ سے دُعا کی کہ الہی اس وقت یہ بارش بند ہو جائے اور جب میں پاخانہ سے واپس آؤں تو پھر شروع ہو جائے۔یہ دُعا کر کے میں پاخانہ گیا اور میں نے دیکھا کہ بارش ہلکی ہو گئی جب فارغ ہو کر واپس لوٹا اور ای آ کر اس کھڑکی میں کھڑا ہو گیا تو معاً بارش پہلے کی طرح تیزی سے برسنے لگی اور میں اس نظارہ سے دیر تک لطف اُٹھاتا رہا اور اب یہ لطف اور بھی زیادہ تھا کیونکہ میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دُعا کی قبولیت کا ایک ایمان بڑھانے والا نشان دیکھا تھا۔بیشک ہمارے دشمن ان باتوں پر ہنتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ لوگ پاگل ہیں ایسی معمولی معمولی باتوں کو نشان قرار دیتے ہیں اور دھوکا خوردہ ہیں مگر ایک دو باتیں ایسی ہوں تو کوئی دھوکا کہہ سکتا ہے لیکن جب سینکڑوں ہوں کی