خطبات محمود (جلد 20) — Page 349
خطبات محمود ۳۴۹ سال ۱۹۳۹ء تو ہمارے نزدیک وہ بھی ہمیں ہی ملا۔پس یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ سب کچھ ہمیں ہی حاصل ہو۔ایک لطیفہ مشہور ہے۔کہتے ہیں کوئی بادشاہ کہیں سے گزر رہا تھا کہ اس نے ایک بڑھے کو جو ستر اسی سال عمر کا تھا دیکھا کہ وہ ایک ایسا درخت بو رہا ہے جس کا پھل پندرہ بیس سال کے بعد لگا کرتا ہے۔اس نے حیرت سے بڑھے کی طرف دیکھا اور کہا میاں تم یہ درخت کیوں لگا رہے ہو؟ تم نے اس کا پھل تھوڑا کھانا ہے۔تم تو پھل لگنے سے پہلے ہی مر جاؤ گے۔بڑھے نے جواب دیا کی کہ بادشاہ سلامت آپ جیسا معقول آدمی اگر ایسی بات کرے تو تعجب ہی ہے۔اگر ہمارے باپ دادا بھی اسی خیال سے درخت نہ لگاتے کہ ہم تو اب مر جائیں گے ، ہم درخت لگا کر کیا ج کریں تو آج ہم ان درختوں کا پھل کس طرح کھا سکتے۔اُنہوں نے درخت لگائے اور ہم نے ان کا پھل کھایا۔اب ہم لگائیں گے اور ہماری آئندہ نسل اس کا پھل کھائے گی۔بادشاہ کو اس کی یہ بات بہت ہی پسند آئی اور بے اختیار اس کے منہ سے نکلا زه - گلے اور بادشاہ کا یہ حکم تھا کہ جب میں کسی کی بات سے خوش ہو کر زہ کہوں تو اُسے تین ہزار درہم بطور انعام دے دیئے جایا کریں۔چنانچہ اُدھر بادشاہ نے زہ کہا اور ادھر خزانچی نے تین ہزار درہم کی تھیلی بڑھے کے سامنے رکھ دی۔بڑھا یہ دیکھ کر مسکرایا اور اس نے کہا بادشاہ سلامت آپ تو کہہ رہے تھے کہ درخت لگانا بیوقوفی ہے تو اس کا پھل کھا ہی نہیں سکتا مگر دیکھئے لوگ تو درخت لگاتے اور کئی کئی سال کے بعد پھل کھاتے ہیں مگر میں نے اس درخت کو لگاتے لگاتے اس کا پھل کھا لیا۔بادشاہ کی کو پھر یہ بات پسند آئی اور اس کی زبان سے نکلا زہ اور خزانچی نے جھٹ تین ہزار درہم کی دوسری تھیلی بھی اس کے سامنے رکھ دی۔بڑھا دوسری تحصیلی کی طرف دیکھ کر ہنسا اور بولا بادشاہ سلامت لوگ سال میں درخت کا ایک دفعہ پھل کھاتے ہیں مگر میں نے ایک منٹ میں اس کی کا دو دفعہ پھل کھا لیا۔بادشاہ نے پھر کہا زہ اور خزانچی نے تیسری تھیلی اس کے سامنے رکھ دی۔بادشاہ یہ دیکھ کر ہنس پڑا اور اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھ کر کہنے لگا یہاں سے چلو ورنہ بڑھا ہمیں کوٹ لے گا۔ہے تو یہ لطیفہ لیکن اس میں یہی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ بہت ہی کمپینہ اور ذلیل انسان وہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ میری خدمت کا صلہ اگر مجھے نہ ملا تو کچھ نہ ملا۔اول تو مومن کی خدا تعالیٰ پر نظر ہوتی ہے دُنیا پر اُس کی نظر ہوتی ہی نہیں۔لیکن اگر ہو بھی تو اُسے سمجھ لینا چاہئے کہ جب