خطبات محمود (جلد 20) — Page 25
خطبات محمود ۲۵ سال ۱۹۳۹ء ہو جائے پر واہ نہیں مگر میں محمد ھ نہیں ہوں گی۔جو دوست وہاں انچارج تھے اُنہوں نے مجھے اطلاع دی اور میں نے انہیں لکھا کہ بے شک آریوں نے جو کچھ کہا ہے ویسا ہی ہوگا اور مولوی ہی اس کے کھیت کو کاٹیں گے۔آپ اپنے تعلیم یافتہ آدمیوں کو لے کر جائیں اور اس کا کھیت کی کائیں۔چنانچہ کئی گریجوایٹ اور سرکاری ملازم ، سرکاری خطاب یافتہ لوگ وہاں گئے اور جا کر کھیت کاٹ دیا۔ان کے ہاتھ لہولہان ہو گئے ، چھالے پڑ گئے مگر اس علاقہ کے لوگوں پر اس کی بات کا اتنا اثر ہوا کہ اسی دن سے آریوں نے سمجھ لیا کہ اس جماعت کا مقابلہ آسان نہیں۔اس کی علاقہ کے رؤساء اب بھی اس واقعہ کا ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ گو اس پر پندرہ سال گزر گئے مگر اس کا اثر دلوں سے محو نہیں ہوا۔اور وہ آج بھی اقرار کرتے ہیں کہ یہ احمدیوں کا ہی کام تھا ، کی مسلمانوں میں سے کوئی اور جماعت ایسا نہیں کر سکتی۔وہی روح اگر آج بھی پیدا ہو تو اس سے شاند را نتائج ظاہر ہو سکتے ہیں کیونکہ آج جماعت اُس وقت سے کئی گنا زیادہ ہے۔تین چار گنا سے بھی زیادہ ہے۔صرف ضرورت ارادہ کی ہے اور اخلاص کی۔پس میں بیرونی جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور ہر بالغ مرد ( عورتوں کو میں ابھی مجبور نہیں کرتا۔گووہ اپنی خدمات پیش کریں تو شکریہ کے ساتھ قبول کی جائیں گی مگر ان کی یہ خدمت طوعی ہو گی ) لیکن ہر بالغ مرد احمدی سے میں اُمید کرتا ہوں کہ وہ اپنا وقت اس کام کے لئے دے گا اور یہ ذمہ داری لے گا کہ خواہ کتنا وقت کیوں نہ دینا پڑے وہ ایک دو یا تین یا ان سے زیادہ احمدی سال میں ضرور بنائے گا۔پس تمام جماعتیں ایسی فہرستیں تیار کر کے جلد بھجوا دیں تا ان کے لئے کام کی سکیم بنا دی جائے اور اگر اس سکیم کی اہمیت کو مد نظر رکھا جائے تو چند سال میں ہی ہندوستان کی کایا پلٹ سکتی ہے۔احمدیوں میں زیادہ تر آن پڑھ لوگ ہیں۔یعنی زمیندار طبقہ زیادہ ہے۔یوں نسبتی لحاظ سے تو احمدیوں میں تعلیم زیادہ ہے مگر باہر کے جلسوں میں تعلیم یافتہ لوگ آتے ہیں اور ہمارے زمیندار آتے ہیں۔ان کے عوام نہیں سنتے مگر ہمارے عوام دوسروں کی نسبت زیادہ سُنتے ہیں۔گویا ہمارے مخاطبین میں زیادہ تر عوام ہوتے اور دوسروں کے جلسوں کی نسبت ہمارے جلسوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ کم ہوتا ہے۔اس لئے وہ سیاسی لحاظ سے بات کی اہمیت کو نہیں سمجھ سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ سیاسی طور پر اسلام اس وقت نہایت نازک دور سے گزر۔