خطبات محمود (جلد 20) — Page 194
خطبات محمود ۱۹۴ سال ۱۹۳۹ء انتظار کی صرف ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے کہ جس محکمہ کے سپرد یہ کام کیا جائے اُسے تجربہ نہ ہو مگر میں سمجھتا ہوں خدام الاحمدیہ کے لئے دو تین ماہ کا تجربہ کافی ہوگا اور اس لئے اب کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کام میں تا خیر کریں۔پس آج میں اعلان کرتا ہوں کہ خدام الاحمدیہ تین دن کے اندر اندر میرے سامنے ایک سکیم پیش کرے کہ کس طرح قادیان کے سب محلوں میں ایک ہی وقت میں تعلیم کو عام کیا جاسکتا ہے؟ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں تعلیم سے میرا مقصد یہ ہے کہ قرآن ناظرہ پڑھنا آتا ہو اور لکھ پڑھ کی سکے اور دستخط کر سکے یعنی تھوڑا بہت لکھنا آجائے اور یہ کوئی مشکل بات نہیں لیکن جہاں میں خدام الاحمدیہ کے سپر دمر دوں کی تعلیم کا کام کرتا ہوں وہاں میں لجنہ کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس سکیم کو عورتوں میں رائج کریں اور کوشش کریں کہ ہر عورت لکھنا پڑھنا سیکھ جائے اور اس کام میں انہیں جس قسم کی مدد کی بھی ضرورت ہو گی وہ ہم مہیا کریں گے جہاں عورتوں میں تعلیم اتنی عام ہے کہ ان پڑھ عورتوں کو پڑھانے کے لئے انہیں مردوں کی امداد کی ضرورت نہیں ہو گی۔البتہ انتظامی لحاظ سے ان کو ضرورت ہو سکتی ہے جو ہم مہیا کر دیں گے لیکن اگر تعلیم کے لئے بھی ان کو ضرورت محسوس ہو تو ایسے معمر اور قابلِ اعتماد مردوں کا انتظام کیا جاسکتا ہے جو پس پردہ تعلیم دے سکیں مگر میں سمجھتا ہوں اس کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔پس میں خدام الاحمدیہ کے سامنے یہ بات رکھتا ہوں کہ وہ کسی ایسی سکیم پر غور کریں جس سے تین ماہ کے اندر اندر تمام مردوں کو تعلیم دینے کا مقصد پورا ہو سکے۔* اپریل کے باقی دن اگر تیاری کے لئے بھی سمجھ لئے جائیں تو مئی، جون ، جولا ئی تین ماہ کام کے لئے ہو سکتے ہیں۔وہ مجھے بتائیں کہ کوئی ایسی کوشش کی جاسکتی ہے یا نہیں کہ جس سے یکم اگست کو قادیان میں کوئی ایک مرد اور کوئی عورت بھی ان پڑھ نظر نہ آئے۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں عورتوں کی ذمہ داری ان پر نہیں بلکہ لجنہ پر ہے۔ان کے ذمہ بعد غور اور مشورہ خدام الاحمدیہ چھ ماہ کا عرصہ مقرر کیا گیا ہے اور خدام الاحمدیہ نے یہ سکیم پیش کر دی ہے۔جَزَاهُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔اب یکم نومبر آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے۔