خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 167

خطبات محمود ۱۶۷ سال ۱۹۳۹ء ہے جو درحقیقت خارج از ضرورت ہوتے ہیں اور جنہیں پیش کرنا کوئی معقولیت نہیں ہوتی۔دُنیا کی میں ایسی کئی باتیں ہوتی ہیں جن کا دریافت کرنا کوئی فائدہ نہیں پہنچا تا۔اب اگر کوئی شخص ایسا کی سوال کرے اور اس کا جواب نہ دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔مثلاً اگر کوئی پوچھے کہ ظہر کی چار رکعتیں کیوں مقرر ہیں اور مغرب کی تین کیوں؟ اسی طرح عشاء کی چار رکعتیں کیوں ہیں اور فجر کی دو کیوں؟ تو اِس بات کا جواب دینا ہمارے لئے کوئی ضروری نہیں۔اگر ہم نماز کی پڑھنے والے کا خدا تعالیٰ سے تعلق ثابت کر سکتے ہیں، اگر ہم نماز کے متعلق یہ دلائل سے ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ روحانی ترقی کا صحیح ذریعہ ہے تو اس کے بعد کسی کا یہ کہنا کہ مغرب کی تین رکعتیں کیوں ہیں اور فجر کی دو کیوں یا ظہر، عصر اور عشاء کی فرض نماز کی چار چار رکعتیں کیوں ہیں ایک غیر ضروری سوال ہے۔خدا تعالیٰ کی ان رکعتوں کے مقرر کرنے میں بار یک دربار یک حکمتیں ہیں جو ضروری نہیں کہ انسان کی سمجھ میں آسکیں اور اس کا ان حکمتوں کی دریافت کے پیچھے پڑنا نادانی ہے۔اس کا کام صرف یہ ہے کہ جب اس پر یہ بات کھل گئی ہے کہ نماز پڑھنا خدا تعالیٰ کا کی حکم ہے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے تو وہ نماز پڑھے۔اُسے اِس سے کیا کہ تین رکعتیں کیوں ہیں اور چار کیوں؟ میں نے پہلے بھی ایک دفعہ بتایا تھا کہ ایک دفعہ میں باہر سفر میں تھا کہ میرے لئے ایک کی دوائی کی ضرورت محسوس ہوئی۔قریب ہی ہسپتال تھا ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب وہاں دوا لینے گئے۔سول سرجن صاحب جو اُس وقت ہسپتال میں موجود تھے اُنہوں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ آپ انہیں ہسپتال میں لے آئیں۔میری مدت سے یہ خواہش ہے کہ انہیں دیکھوں۔اس کی طرح میں اپنی خواہش کو بھی پورا کر سکوں گا اور انہیں دیکھ کر کوئی نسخہ بھی تجویز کر دوں گا۔چنانچہ میں گیا اور اُس نے دیکھنے کے بعد ڈاکٹر صاحب کو ایک نسخہ لکھوایا۔اس میں صرف تین دوائیں پڑتی تھیں۔ایک ٹنکچر نکس وامیکا تھی ، دوسرا سوڈا بائی کا رب اور تیسری دوائی مجھے یاد نہیں رہی۔کی اُس نے کہا یہ نسخہ ہے جو تیار کر کے انہیں استعمال کرایا جائے۔پھر وہ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کی طرف مخاطب ہوا اور ان سے کہنے لگا میں نے فلاں دوائی کے اتنے قطرے لکھے ہیں اور فلاں دوائی کی مقدار اتنے گرین (GRAIN) لکھی ہے۔میں بوڑھا ہونے کو آ گیا ہوں اور کی